غیر ملکی بحری جہاز میں پاکستانی عملے کے ساتھ نارواسلوک

ایک ماہ سے کھانا نہ ملنے کے باعث پاکستانی سیکنڈ انجینئر غلام حسین انتقال کرگئے


INP March 03, 2013
بحری جہاز میں 18 پاکستانی، 4 بھارتی،1بنگالی اور ایک مصری شہری موجود ہے ، انصار برنی فوٹو: فائل

غیر ملکی بحری جہاز میں پاکستانی عملے کے ساتھ نارواسلوک کا ایک اور واقعہ سامنے آیا ہے۔

ایک ماہ سے عملے کو کھانا نہ ملنے کے باعث ایک پاکستانی سیکنڈ انجینئر انتقال کرگیا، جہاز کا تمام عملہ بھوک سے نڈھال ہے۔ ہفتے کو نجی ٹی وی کے مطابق سیکنڈ انجینئر غلام حسین 8 ماہ قبل کراچی سے ایم وی میم نامی بحری جہاز میں عملے کے طور پر کراچی سے روانہ ہوئے تاہم کون جانتا تھا کہ یہ ان کی زندگی کا آخری سفر ہوگا۔

1

غلام حسین کی بیٹی سبین کے مطابق بحری جہاز کے عملے کو گزشتہ ایک ماہ سے کھانا نہیں دیا گیا جس سے ان کے والد انتقال کرگئے اور میت ناکالا پورٹ پر موجود ہے۔ سیکنڈ انجینئر غلام حسین کے اہل خانہ نے صدر، وزیراعظم، گورنر سندھ اور الطاف حسین سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے والد کی میت کو جلد از جلد پاکستان لایا جائے۔ سماجی رہنما انصار برنی کے مطابق بحری جہاز میں18 پاکستانی، 4 بھارتی، ایک ایک بنگالی اور مصری شہری موجود ہیں جن کی حالت انتہائی تشویش ناک ہوچکی ہے۔