دورۂ لاہور کیلیے گروسنہا اور تلکارتنے نے خوف کی دیوار گرا دی

2009کا واقعہ ذہن سے نکال کر بطور منیجر اور بیٹنگ کوچ اسکواڈ کے ہمراہ ہوں گے


Sports Reporter October 28, 2017
گولیوں کی زد میں آنے والے امپائر احسن رضا بھی کل میچ سپروائز کرنے کیلیے تیار۔ فوٹو : فائل

اسانکا گروسنہا منیجر اور ہشان تلکارتنے بیٹنگ کوچ کے طور پر اسکواڈ کے ہمراہ ہوں گے جب کہ گولیوں کی زد میں آنے والے امپائر احسن رضا اتوار کو میچ سپروائز کرنے کیلیے تیار ہیں۔

سری لنکن ٹیم پر مارچ2009 میں دہشت گردوں کا نشانہ بننے والے 2 سری لنکن کرکٹرز خوف کی دیوار گرا کر ایک بار پھر پاکستان آنے کیلیے تیار ہیں۔ دہشت گردوں کا نشانہ بننے والی بس میں سوار اسانکا گروسنہا منیجر اور ہشان تلکارتنے بیٹنگ کوچ کے طور پر ذمہ داریاں نبھانے کیلیے مہمان اسکواڈ کے ساتھ آئیں گے، انتہائی ناخوشگوار واقعے میں گولیوں کی زد میں آنے والے احسن رضا موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد جانبر ہوئے تھے۔

واضح رہے کہ پاکستانی امپائر اس وقت جاری ٹیسٹ میچ میں ریزرو امپائر تھے،وہ اتوار کو کھیلے جانے والے ٹی ٹوئنٹی مقابلے کو سپروائز کرنے کیلیے قذافی اسٹیڈیم میں ہوں گے۔

اس تاریخی موقع کے حوالے سے بات کرتے ہوئے احسن رضا نے کہا کہ9سالہ وقفے کے بعد کسی میچ کیلیے واپس آنے والے آئی لینڈرز نے خوف کی دیوار پھلانگ کر دنیا کو پاکستان کے حوالے سے بڑا مثبت پیغام دیا ہے، مہمان کرکٹرز کی آمد ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کیلیے اہم قدم ثابت ہوگی،انھوں نے کہا کہ لاہور میں ہی سری لنکن ٹیم کے میچ میں امپائرنگ کا موقع ملنا بڑے اعزاز کی بات ہے۔

دوسری جانب شائقین میں ''چاچا کرکٹ'' کے نام سے بیحد مقبول صوفی عبدالجلیل دنیا بھر میں پاکستانی کرکٹرز کے حوصلہ افزائی کیلیے موجود ہوتے ہیں،سری لنکن ٹیم پر حملہ ہوا تو وہ قذافی اسٹیڈیم کی جانب گامزن تھے،انھوں نے کہا کہ سری لنکن ٹیم کی دوبارہ پاکستان آمد بڑی خوشی کی بات ہے، میں مہمان کرکٹرز کو خوش آمدید کہنے کیلیے اتوار کو قذافی اسٹیڈیم میں موجود ہوں گا، جو کچھ ہوا وہ ماضی کا حصہ بن چکا، یہ میچ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی نئی شروعات ہو گی اور ہم سب اس مقصد کیلیے متحد ہیں۔