سری لنکا سے میچ کراچی میں بھی جوش و خروش انتہا کو پہنچ گیا

کئی مقامات پربڑی اسکرینز نصب ہوں گی،سابق کرکٹرزاورشائقین کا اظہار مسرت


Sports Reporter October 29, 2017
کرکٹرز اورشائقین کرکٹ نے بھی میچ کے انعقاد پر بھر پور مسرت کا اظہار کیا ہے۔ فوٹو : فائل

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ٹی ٹوئنٹی سیریزمیں اتوار کو تیسرے اورآخری میچ کے لاہور میں انعقاد کا جوش و خروش کراچی میں بھی انتہا پر ہے۔


براہ راست دکھائے جانے والے میچ کے لیے شہرکے کئی مقامات پر بڑی اسکرینز نصب کی جائیں گی، دوسری جانب کرکٹرز اورشائقین کرکٹ نے بھی میچ کے انعقاد پر بھر پور مسرت کا اظہار کیا ہے۔

پی سی بی کی سلیکشن کمیٹی کے رکن و سابق ٹیسٹ کرکٹر توصیف احمد نے کہاکہ سری لنکا کی ٹیم کا پاکستان آکر کھیلنا بہت خوش آئند بات ہے، یہ عمل ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں میں معاون و مدد گار ثابت ہوگا جبکہ میچ کے کامیاب انعقاد سے پاکستان کے حوالے سے عالمی سطح پر مثبت تاثر جائے گا۔

سابق قومی سلیکٹر وسابق ٹیسٹ کرکٹر سلیم جعفر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ امر پوری قوم کے لیے باعث مسرت ہے کہ ایک طویل عرصہ کے بعد کوئی انٹرنیشنل کرکٹ ٹیم پاکستان کا رخ کر رہی ہے ،خاص طور پر سری لنکا کی ٹیم قابل مبارکباد ہے کہ اس نے پاکستان آکر کرکٹ کھیلنے کا فیصلہ کیا جبکہ وہ خود اپنے دورئہ پاکستان کے دوران دہشت گردی کا شکار ہوئی تھی، اس میچ کے بعد پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

ٹیسٹ بیٹسمین فیصل اقبال نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ بہت خوشی کی بات ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کا شکار ہونے والی سری لنکا کی ٹیم نے جرات مندی اورحوصلہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوبارہ اس سر زمین پر آکر کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے، اس میچ کے انعقاد کو ممکن بنانے میں پاکستان کرکٹ بورڈ مبارکباد کا حقدار ہے، سری لنکا کرکٹ حکام اور ان کی ٹیم کے کھلاڑی بھی مبارکباد کے لائق ہیں جنھوں نے پاکستان میں اسی میچ کو ممکن بنانے میں اپنا کرادار ادا کیا۔

فیصل اقبال نے کہا کہ میں 2009میں لاہور میں دہشت گردی کا شکار ہونے والی سری لنکا کی ٹیم کے خلاف کھیلنے والی پاکستان کرکٹ ٹیم کا رکن تھا اور مجھے علم ہے کہ مہمان کھلاڑی کس بڑے خطرے سے دوچار ہوئے تھے، لیکن اس کے باوجود سری لنکا نے پاکستان آکر کھیلنے کا فیصلہ کرکے بہت ہمت اور جواں مردی دکھائی کی جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔