برمی مسلمان‘ڈاکٹر عافیہ

میڈیا دنیا کو یہ پیغام دینے کی کوشش کررہا ہے کہ ہم میں وحشی اور انتہا پسند نہیں.


Zaheer Akhter Bedari August 06, 2012
[email protected]

مسلمانوں کی عظمت کا پرچم اٹھائے ہوئے لوگ جب یہ شکوہ کرتے ہیں کہ میڈیا برما میں ہونے والے مسلمانوں کے قتل کو وہ اہمیت نہیں دے رہا ہے جو ملنی چاہیے تو مجھے ان دوستوں کا شکوہ بجا لگتا ہے اور مجھے احساس ہوتا ہے کہ میڈیا برما کے مسلمانوں سے زیادتی کررہا ہے، لیکن جب میں اس ناانصافی کی وجوہات پر غور کرتا ہوں تو میرے سامنے دنیا کے مختلف علاقوں، خود اپنے اور اپنے پڑوسی ملک افغانستان، عراق، صومالیہ، مالی، سوڈان، الجیریا، اسپین سمیت کئی ملکوں میں ہونے والے خونی مناظر آجاتے ہیں۔

میرے سامنے برسوں سے جاری خیبر پختون خوا سے لے کر کراچی تک کا خونی منظرنامہ آجاتا ہے، جس میں اب تک کے اعدادوشمار کے مطابق 42 ہزار مسلمان انتہائی سفّاکی سے قتل کیے جاچکے ہیں۔ میں حیرت سے ان بیانات کو پڑھتا رہتا ہوں، جن میں فخر سے یہ بتایا جاتا ہے کہ یہ بم دھماکا، یہ بارودی گاڑی، یہ خودکش حملہ ہم نے کیا ہے۔ میری آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں جب میں پانچ پانچ سال کے معصوم بچّوں اور خواتین سمیت روزہ دار مسلمانوں کے جسموں کے اعضا کو ان دھماکوں میں دور دور تک اڑتے بکھرتے دیکھتا ہوں۔ میرے ذہن میں بار بار یہ سوال ابھرتا ہے کہ ان معصوم مسلمانوں کا قصور کیا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں جب میں مسلمانوں کو چیونٹیوں کی طرح مرتے دیکھتا ہوں تو میرا سر شرم سے جھک جاتا ہے کہ انسانوں کے خون کو اتنا سستا کیوں کردیا گیا ہے۔ فلسطین اور کشمیر میں ہونے والی قتل و غارت گری کی داستانیں سن کر میری آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔ پھر میرے ذہن میں یہ خیال آتا ہے کہ کراچی میں بوری بند لاشیں، سروں دھڑوں، ہاتھوں، پائوں میں تقسیم انسانی جسموں کا یہ حال کرنے والے کون لوگ ہیں۔ میرے سامنے ٹی وی اسکرینوں، اخباروں کے صفحات پر چیختی دھاڑتی وہ خبریں آجاتی ہیں کہ آج کراچی میں کتنے انسان قتل ہوئے، کتنی بے شناخت لاشیں ایدھی کے سرد خانوں میں اپنی شناخت کی منتظر ہیں۔

پھر مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ برما کے روہنگیا مسلمانوں کا قتل کیا اسی پس منظر میں میڈیا کی نظروں سے اوجھل ہوگیا ہے، لیکن ان ساری بدنما حقیقتوں کے باوجود کچھ حلقوں کا یہ شکوہ بجا لگتا ہے کہ برما میں مارے جانے والے مسلمانوں کو میڈیا نے وہ اہمیت نہیں دی جو دی جانی چاہیے تھی۔

مجھے برما میں قتل ہونے والے انسانوں ہی کا دکھ نہیں بلکہ آسام میں مارے جانے والے انسانوں کا بھی دکھ ہے لیکن برما اور آسام میں مارے جانے والے مسلمانوں پر احتجاج کرنے والے دوستوں نے کبھی یہ بتانے کی زحمت نہیں کی کہ یہاں لوگ کیوں مارے جارہے ہیں۔ یہاں کے لوگوں پر ظلم کے پہاڑ کیوں توڑے جارہے ہیں۔ میں اس قتل و غارت کے بارے میں معلومات کی کمی کی وجہ سے ان مسئلوں پر لکھنے سے گریزاں رہا۔ میں چاہتا تھا کہ ان مظالم کی وجوہات کا علم ہو تو میں بھرپور انداز میں ان مظالم کے خلاف آواز اٹھائوں،لیکن افسوس کہ اب تک اس حوالے سے میری معلومات نہ ہونے کے برابر ہیں ورنہ صحرائے تھرمیں موروں کی موت پر دکھی ہونے والے انسان بھلا برما اور آسام میں مارے جانے والے ہزاروں انسانوں کے قتل پر کیسے خاموش رہ سکتے ہیں؟

میں تو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو دی جانے والی 86 سال کی وحشیانہ سزا کو بھی امریکی انصاف کی سرعام آبروریزی سمجھتا ہوں کیونکہ عافیہ کو 86 سال قید کی جو سزا دی گئی ہے، اس کا جواز یہ بتایا گیا ہے کہ عافیہ نے ایک امریکی سپاہی پر حملہ کیا تھا۔ میں امریکی سپاہی پر حملے کے جرم میں عافیہ کو 86 سال کی سزا سنانے والے جج کی توجہ اس جانب دلانا چاہتا ہوں کہ امریکا کے ایک شہری ریمنڈ ڈیوس نے دن کے اجالے میں سیکڑوں لوگوں کے سامنے دو پاکستانی شہریوں کو قتل کردیا۔ اسے اس بھیانک جرم کی سزا دینے یا دلوانے کے بجائے پاکستانی حکومت پر انتہائی بداخلاقی سے یہ دبائو ڈالا جاتا رہا کہ ریمنڈ ڈیوس کو رہا کرکے امریکا بھیج دیا جائے۔

جب اس کھلی بدمعاشی میں امریکا کو کامیابی حاصل نہ ہوئی تو خون بہا کو وسیلہ بنا کر ریمنڈ کو آزاد کرالیا گیا۔ انصاف کے اس امریکی معیار سے امریکی حکمرانوں اور امریکی قانون اور انصاف جس طرح ذلیل و رسوا ہوا ہے، کیا قانون اور انصاف کے علمبردار امریکی حکمران ٹولہ اپنی اس ذلّت و رسوائی کو محسوس کرتا ہے؟ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا تعلق جن گروہوں سے بتایا جاتا ہے۔ ان گروہوں سے کسی انسان دوست کو ہمدردی نہیں ہوسکتی، لیکن عافیہ کو جس جرم میں 86 سال کی سزا سنائی گئی۔ وہ قانون اور انصاف کے ماتھے پر کوڑھ کا وہ داغ ہے، جسے مٹایا نہیں جاسکتا۔

امریکا ایک جارح ملک ہے۔ اس نے عراق اور افغانستان پر قبضہ کرکے اپنی ننگی جارحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اگر عراق اور افغانستان کی ساری توجہ اپنے ملکوں سے امریکا کو نکالنے پر مرکوز رہتی تو دنیا بھر کے عوام کی حمایت انھیں حاصل ہوتی لیکن ہم نے دونوں ملکوں میں امریکا سے زیادہ اپنے بھائیوں کے خلاف جنگ شروع کی اور یہ جنگ اس وحشیانہ انداز میں شروع کی کہ ساری دنیا ہمارے خلاف ہوگئی یوں امریکا کے ہاتھ مضبوط کردیے گئے۔

آج دنیا ہمیں وحشی جاہل اور تہذیب و ترقی کے دشمن کہہ رہی ہے۔ یوں ہم ساری دنیا میں تنہا ہو کر رہ گئے ہیں۔ ہماری اس بدنامی نے کی وجہ سے ہماری جائز بات بھی ناجائز قرار دی جارہی ہے۔ برما میں ہونے والے مظالم، آسام میں ہونے والی زیادتیاں عافیہ کے ساتھ ہونے والی ناانصافی ہماری وحشتوں کے پیچھے چھپ گئی ہے۔ عراق پر امریکی حملے کی افواہوں کے خلاف بلاامتیاز مذہب، ملت، ساری دنیا میں سڑکوں پر آنے والے عوام آج عراق میں مارے جانے والے پانچ لاکھ مسلمانوں، افغانستان میں ہونے والے قتل عام پر خاموش کیوں ہیں؟

راجیش کھنّہ کی موت پر طویل پروگرام پیش کرنے والے میڈیا پر لعنت بھیجنے، انھیں گندی گندی گالیاں دینے سے پہلے یہ سوچا جائے کہ یہ میڈیا اس کالک کو اپنے اجتماعی چہرے سے صاف کرنے اور دنیا کو یہ پیغام دینے کی کوشش کررہا ہے کہ ہم میں وحشی اور انتہا پسند نہیں۔ ہم علم و فن کی عزت کرتے ہیں۔ ہم اہلِ قلم، اہلِ فن کی بلاامتیاز مذہب ملت عزت کرتے ہیں۔ کیا یہ مثبت کوششیں قابل مذمت ہیں یا قابل تعریف؟ کاش ہم ان حقائق کو سمجھنے کی کوشش کرتے۔

کاش ہم دنیا پر بارودی گاڑیوں، خودکش حملوں کے ذریعے نہیں بلکہ علم و آگہی، سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے صنعتی ترقی تحقیق و ایجادات کے ذریعے دنیا پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے تو نہ آج ساری دنیا ہم سے نفرت کرتی نہ برما آسام کے مسلمان تنہائی کا شکار ہوتے۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم خیالوں کی جنّت سے باہر آئیں۔ دنیا کی بے رحم حقیقتوں کو سمجھیں اور دنیا میں ایک باعزّت مہذب قوم کی طرح رہنا سیکھیں۔

مقبول خبریں