قلت آب کا سنگین مسئلہ پیش بندی ناگزیر

آنے والے برسوں میں یہ بحران اپنی شدت پر پہنچنے کا خدشہ ہے


Editorial October 30, 2017
آنے والے برسوں میں یہ بحران اپنی شدت پر پہنچنے کا خدشہ ہے۔ فوٹو : فائل

دنیا میں صاف پانی کے ذخائر کی کمی اور مستقبل میں قلت آب کے خدشات کے پیش نظر ناگزیر ہوگیا ہے کہ ریاستیں نہ صرف پانی کے حصول کے قدرتی عوامل کی حفاظت کریں بلکہ آیندہ برسوں کے لیے صائب لائحہ عمل مرتب کرکے پانی کے ذخائر کو محفوظ بنایا جائے۔

بدقسمتی سے پاکستان میں پانی کی کمی کے اس سنگین مسئلے سے ہمیشہ پہلوتہی برتی گئی، نہ تو پانی کے قدرتی ذرایع کی حفاظت کی گئی اور نہ ہی بڑے ڈیموں کی تعمیر اور پانی کو ذخیرہ کرنے پر دھیان دیا گیا، نتیجتاً پاکستان کو بدترین قلت آب کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور آنے والے برسوں میں یہ بحران اپنی شدت پر پہنچنے کا خدشہ ہے۔ اس سلسلے میں ایک خوش آیند اطلاع ہے کہ وزارت آبی وسائل کی جانب سے 19 ہزار 727 میگاواٹ کے گیارہ بجلی کے منصوبوں پر ابتدائی کام مکمل کرلیا گیا اور ان پر تعمیراتی کام جلد شروع کیا جائے گا، کالا باغ ڈیم بھی تعمیر کے لیے تیار منصوبوں کی لسٹ میں بدستور شامل ہے۔

دستیاب دستاویز کے مطابق تیار منصوبوں میں دیامر بھاشا ڈیم، مہمند ڈیم، بنجی ڈیم، تربیلا پانچ توسیعی منصوبے شامل ہیں، جب کہ دیگر منصوبوں میں داسو اسٹیج 2، ہارپور ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، لولانگ ڈیم، کالا باغ ڈیم، وارسک 2 ری ہبیلی ٹیشن اور چترال ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی توسیع شامل ہے۔ پانی نہ صرف زندگی کا اہم عامل ہے بلکہ انسانی ضروریات کے لیے صاف پانی کا حصول حد درجہ لازم ہوچکا ہے۔

شنید ہے کہ مذکورہ منصوبوں سے 14.28 ملین ایکڑ فٹ پانی بھی دستیاب ہوگا جس سے ملک میں پانی کے ذخیرے میں خاطر خواہ حد تک اضافہ ہوگا۔ جب کہ ان منصوبوں سے پانی کے مسئلے سے نمٹنے کے ساتھ ہی ملک میں موجود انرجی کرائسز سے نمٹنا بھی ممکن ہوسکے گا۔ دیامر بھاشا ڈیم سے نہ صرف 4500 میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی بلکہ 6.4 ملین ایکڑ فٹ پانی کا ذخیرہ کیا جاسکے گا اور یہ منصوبہ نو سال میں پایہ تکمیل تک پہنچے گا۔

بنجی ہائیڈرو پراجیکٹ سے 9 سال میں 7100 میگاواٹ بجلی، تربیلا 5توسیع منصوبے سے 5 سال میں 1410 میگاواٹ بجلی، کرم تنگی سے 4 سال بعد منصوبے کی تکمیل کی صورت میں 64.5 میگاواٹ بجلی دستیاب ہوگی۔ واپڈا نے کالاباغ ڈیم کو بھی تعمیر کے لیے تیار منصوبوں میں شامل کیا ہوا ہے اور اس کی مدت تکمیل 6 سال ہے، اس منصوبے سے 3600 میگاواٹ بجلی دستیاب ہوگی اور پانی کی اسٹوریج 6.1 ملین ایکڑ فٹ تک ہوگی۔

واضح رہے کہ سابقہ دور حکومت میں 3 صوبوں کی جانب سے اس کے خلاف قرارداد منظور کرنے پر اس منصوبے کو ختم کردیا گیا تھا۔ صائب ہوگا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ملک کے وسیع تر تناظر میں باہمی اختلافات کا خاتمہ کریں اور متنازعہ منصوبوں پر تحفظات دور کرکے جلد از جلد تعمیرات کا کام شروع کیا جائے۔