عالمی ثالثی عدالت کا آئی پی پیز کو14 ارب روپے سے زائد کی ادائیگی کا حکم

آئی پی پیز نے عالمی عدالت سے اس وقت رجوع کیا جب این ٹی ڈی سی نے مقررہ 75 روز میں فیصلے پر عمل نہیں کیا تھا


Business Reporter November 01, 2017
عدالت نے پہلے حتمی طور پر جزوی ادائیگی کے احکام دیے تھے تاہم این ٹی ڈی سی نے ادائیگی کی نہ ہی فیصلے کے خلاف اپیل کی. فوٹو: نیٹ

SHARJAH, UNITED ARAB EMIRATES: لندن کی عالمی ثالثی عدالت نے حکومت پاکستان اور این ٹی ڈی سی کیخلاف آئی پی پیز کے حق میں فیصلہ جاری کرتے ہوئے آئی پی پیز کو 14 ارب روپے سے زائد کی ادائیگی کا حکم دیا گیا ہے۔

لندن کی عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے میں 9 آئی پی پیز کو دیگر مد میں ادائیگی کا بھی حکم دیا گیا ہے اور اس میں انٹرسٹ کی مد میں + KIBOR 4.5 فیصد کی ادائیگی بھی شامل ہے۔ فیصلے کے مطابق جن کمپنیوں کو ادائیگی کی جانی ہے ان میں اٹلس پاور کمپنی، ہالمور پاور جنریشن، حب پاور، لبرٹی پاور ٹیک لمیٹڈ، نشاط چونیاں، نشاط پاور لمیٹڈ، اورینٹ پاور کمپنی لمیٹڈ، سیف پاور کمپنی، سیفائر الیکٹرک کمپنی شامل ہیں۔ اصل رقم0.977 1ارب روپے کے علاوہ،2.547 ارب روپے شرح سود کی مد میں، 8 کروڑ 28 لاکھ روپے معاہدے کی خلاف ورزی کی مد میں، ایک کروڑ 51 لاکھ روپے اور55 لاکھ یو ایس ڈالر کارروائی کی لاگت کی مد میں دینے کے احکام دیے گئے ہیں۔

اسی طرح دعویداروں کے ثالثی پر آنے والے اخراجات کی مد میں 271,417 پاؤنڈ کی ادائیگی بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ فیصلے کی تاریخ (29 اکتوبر2017)کے بعد سے مکمل ادائیگی تک کائی بور + 4.5 فیصد پر شرح سود ادا کرنا ہوگا۔آئی پی پیز نے این ٹی ڈی سی اور اس کی ضامن حکومت پاکستان کی طرف سے ادائیگی نہ ملنے کی وجہ سے اور مسلسل ناکامی کے بعد آخری صورت میں لندن کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

آئی پی پیز نے اس آرٹیکل (3)184 کے تحت 2012ء میں سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا جس میں این ٹی ڈی سی کو واجبات کی ادائیگی کا کہا گیا تھا تاہم این ٹی ڈی سی نے کچھ واجبات ادا کرنے کے بعد ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے جس میں تصفیے کو پی پی اے کے متعین کردہ مکینزم کے تحت حل کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا گیا تھا۔

معاملے کے ایکسپرٹ سابق جسٹس سائر علی نے رولنگ میں کہا تھا کہ 30 دن میں این ٹی ڈی سی لازمی طور پر آئی پی پیز کو ادائیگی ممکن بنائے تاکہ وہ 30 روز کی انوینٹری کو برقرار رکھ سکیں اور این ٹی ڈی سی کی طرف سے کٹوتی کا کوئی جواز نہیں ہے۔ سائر علی کے فیصلے پر عمل نہیں کیا گیا جس کے بعد آئی پی پیز نے بحالت مجبوری عالمی عدالت سے رجوع کیا۔ پی پی ایز کے تحت یہ فیصلہ حتمی ہے اور اس پر عمل کرنا ناگزیر ہے۔

واضح رہےکہ آئی پی پیز نے کورٹ سے اس وقت رجوع کیا جب این ٹی ڈی سی نے مقررہ مدت 75 روز میں فیصلے پر عمل نہیں کیا تھا۔ کورٹ نے پہلے حتمی طور پر جزوی ادائیگی کے احکام دیے تھے تاہم این ٹی ڈی سی نے 75 روز میں ادائیگی کی اور نہ ہی فیصلے کے خلاف اپیل کی۔

مقبول خبریں