افغانستان…امریکا اور پاکستان کا مخمصہ

امریکا کی جنوبی ایشیا کی پالیسی کا ڈھانچہ ان امریکی فوجی جرنیلوں نے بنایا


Editorial November 03, 2017
امریکا کی جنوبی ایشیا کی پالیسی کا ڈھانچہ ان امریکی فوجی جرنیلوں نے بنایا۔ فوٹو: فائل

وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے گزشتہ روز سینیٹ میں امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کے دورہ پاکستان پر بحث کو سمیٹتے ہوئے پاک امریکا تعلقات کے حوالے سے اہم باتیں کی ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ ہم نے امریکا سے کہہ دیا ہے کہ قابل عمل انٹیلی جنس دیں تو کارروائی کریں گے' محض خالی خولی باتیں نہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی جنوبی ایشیا کی پالیسی کا ڈھانچہ ان امریکی فوجی جرنیلوں نے بنایا جنہوں نے 15برس میں افغانستان میں ہزیمت کا سامنا کیا۔ انھوں نے کہا کہ امریکا کو ضروری پیغام دے دیا گیا ہے کہ ہم اپنے مفادات کو سو فیصد ترجیح دیں گے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ جب یہ باتیں کر رہے تھے' ادھر امریکا کے وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن امریکی سینیٹ کی فارن ریلیشنز کمیٹی کو دورہ پاکستان کے حوالے سے جواب دے رہے تھے۔ اخبارات میں رپورٹ ہونے والی خبر کے مطابق ری پبلکن پارٹی کی ذیلی جماعت ویومنگ ری پبلکن کے سینیٹر جان براسو نے ریکس ٹلرسن سے دورہ پاکستان کے بارے میں سوال کیا کہ وہ پاکستانیوں سے جو سن کر آئے ہیں وہ بتائیں۔ امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستانیوں نے اشارہ دیا ہے کہ اگر ہم انھیں دہشت گردوں کی معلومات فراہم کریں تو وہ ان کے خلاف کارروائی کے لیے تیار ہیں، لہذا ہم تجربہ کے طور پر مخصوص خفیہ معلومات فراہم کرکے انھیں ایک اور موقع دینا چاہتے ہیں۔ سینیٹر براسو نے ڈونلڈ ٹرمپ کی21 اگست کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشیا کے لیے امریکا کی نئی حکمت عملی کے تحت پاکستان کے ساتھ تعلقات رکھنے کا رویہ تبدیل ہوچکا ہے۔

سینیٹر نے امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ کو یاد دلایا کہ جنوبی ایشیا کے دورے سے قبل وہ حکومت پاکستان سے چند امیدوں اور معلومات کے تبادلے پر کارروائی کے ذریعے تعاون کے میکنزم کی بات کر رہے تھے تاہم ریکس ٹلرسن نے بتایا کہ وہ اس سماعت کے دوران اپنے دورہ اسلام آباد کی وسیع شکل پیش کر سکتے ہیں لیکن اس کے لیے ایک بند کمرہ میں بیٹھنا پڑے گا۔ امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ نے بتایا کہ انھوں نے پاکستان سے کہا ہے کہ اس کی دو ہمسایہ ممالک افغانستان اور بھارت کے ساتھ سرحدیں غیر مستحکم ہیں لہذا اسلام آباد کو واضح پیغام دیا کہ آپ کو اپنے ملک میں وسیع پیمانے پر استحکام لانے کا آغاز کرنا ہوگا جس کا مطلب ہے کہ آپ کو ان دہشت گردوں کی مبینہ محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کرنا ہوگا جو آپ کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے دہشت گرد کارروائیاں کرتے ہیں۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کے حقانی نیٹ ورک اور طالبان کے ساتھ مبینہ تعلقات ہیں جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ گروپ ماضی میں خطے میں مستحکم ہوئے تاہم اب ایسا ممکن نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ اب یہ پاکستان پر منحصر ہے کہ وہ ان گروپوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو ختم کرکے اپنے طویل المدتی استحکام اور روشن مستقبل کے بارے میں سوچے۔ اس منظرنامے پر غور کرنے سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ پاکستان اور امریکا افغانستان کے ایشو پر ایک پیج پر نہیں ہیں۔ البتہ انٹیلی جنس شیئرنگ کے حوالے سے دونوں میں اتفاق موجود ہے۔ افغانستان، پاکستان اور امریکا دونوں کے لیے ایسا ایشو بن گیا ہے کہ دونوں کا اس پر موقف مختلف ہے' امریکا کا خیال ہے کہ افغانستان میں جو کچھ ہو رہا ہے' اس میں ایسے افغان گروپس ملوث ہیں جن پر پاکستان کا اثر موجود ہے جب کہ پاکستان اس کے برعکس موقف رکھتا ہے' اس سارے کھیل میں نقصان پاکستان اور امریکا کا ہو رہا ہے جب کہ افغانستان کے اقتدار پر قابض گروپس مکمل فائدے میں ہیں۔

افغانستان کی حکومت میں شامل مختلف گروپس کچھ کیے بغیر اقتدار کے مزے لے رہے ہیں' امریکا اور مغربی ممالک سے آنے والی امداد کو اپنی جھولیوں میں ڈال رہے ہیں' درپردہ افغان جنگجوؤں سے روابط بھی رکھے ہوئے ہیں اور مکاری و منافقت کی روایتی مہارت کو بروئے کار لا کر امریکا اور اقوام عالم کو گمراہ کر رہے ہیں کہ افغانستان میں دہشت گردی کی وارداتیں کرنے والے پاکستان سے آتے ہیں۔

پاکستان اگر ڈیورنڈ لائن پر حفاظتی اقدامات کرتا ہے تو اس پر واویلا کیا جاتا ہے۔ افغان مہاجرین کی واپسی کی بات کی جائے تو مہاجرین کو واپس لینے پر تیار نہیں ہے' یہی نہیں افغان طالبان اور وہاں لڑنے والے دیگر جنگجو گروپوں نے روسی ایجنسیوں سے روابط رکھے ہوئے ہیں اور چین اور ایران کے ساتھ بھی روابط میں ہیں' یوں پاکستان ایک ایسی مشکل میں پھنسا ہوا ہے جہاں سے نکلنے کے لیے اسے ایڑی چوٹی کا زور لگانا پڑ رہا ہے جب کہ امریکی انتظامیہ بھی مشکل صورت حال سے دوچار ہے' افغان بحران سے نمٹنے کے لیے امریکا اور پاکستان کو ایک پیج پر ہونا پڑے گا' دونوں کو اس حقیقت کو سمجھنا چاہیے کہ افغانستان پر برسراقتدار گروہ اور وہاں لڑنے والے گروہ دونوں اس ملک میں قیام امن کے خواہاں نہیں ہیں کیونکہ خانہ جنگی ہی ان کے مفادات کو پورا کر رہی ہے' اگر عالمی قوتیں اس علاقے میں پراکسی جنگ سے ہاتھ کھینچ لیں تو افغانستان میں قیام امن کوئی مشکل کام نہیں ہے۔