مہنگائی کا عذاب اور حکمرانوں کی بے حسی

مہنگائی کے گراف کو روز بروز بلند سے بلند تر کرنا شروع کر دیا


Editorial November 03, 2017
مہنگائی کے گراف کو روز بروز بلند سے بلند تر کرنا شروع کر دیا۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

مہنگائی کا شکوہ زبان زدعام ہے۔ جب بھی مہنگائی بڑھتی ہے تو عوامی احتجاج پر حکمران انتظامیہ کو فوراً متحرک کر دیتے اور اس کے بے لگام گھوڑے کو قابو میں لانے کی نوید سنا دیتے ہیں تاکہ عوام پرسکون رہیں کہ جلد ہی انھیں مہنگائی کے عذاب سے نجات دلا دی جائے گی۔

مگر گزشتہ چند ماہ سے آئے ہوئے مہنگائی کے اس عذاب پر نہ تو حکمرانوں نے نظر التفات کی اور نہ انتظامیہ نے اس درخور اعتنا سمجھا اور کہیں سے یہ مژدہ نہ ملا کہ مہنگائی کے جن کو جلد بوتل میں بند کر دیا جائے گا۔ مہنگائی مافیا کو بھی حکمرانوں کی اس بے حسی کا بخوبی اندازہ ہو گیا جس سے انھوں نے بھرپور طور پر مستفیض ہوتے ہوئے مہنگائی کے گراف کو روز بروز بلند سے بلند تر کرنا شروع کر دیا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ ٹماٹر پیاز' لیموں تو رہے ایک جانب دیگر سبزیوں اور خوردنی اشیا نے بھی مہنگائی کا دامن پکڑ لیا ہے۔

بیورو شماریات کے حکام کے مطابق حال ہی میں ریگولیٹری ڈیوٹی کے نفاذ اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے روز مرہ اشیا کی قیمتوں پر منفی اثر پڑا۔ جمہوری حکمرانوں نے تو یہ نعرہ بلند کیا تھا کہ وہ عوام کو مہنگائی کے عذاب سے نجات دلائیں گے مگر شاید وہ اپنے ان وعدوں کو بھول گئے ہیں۔ نرخ بالا کن کہ ارزانی ہنوز۔مہنگائی جس تیز رفتاری سے بلند ہو رہی ہے لگتا ہے جلد ہی عام آدمی کی قوت خرید جواب دے جائے گی۔ چیف شماریات مہنگائی کا تسلسل برقرار رہنے کا کہہ رہے ہیں جو قطعی طور پر خوش آیند امر نہیں۔ کہیں بھی ایسی حکومتی اقدامات دکھائی نہیں دیتے جس سے یہ گمان گزرے کہ مہنگائی میں کمی کرنے کے لیے انتظامیہ حرکت میں آ چکی ہے۔ خدارا عوام کی حالت پر رحم کھائیں اور انھیں مہنگائی کے اس عذاب سے نجات دلائیں۔