مردم شماری اسٹیک ہولڈرز حل نکالیں

کراچی کی آبادی ڈیڑھ کروڑ ظاہر کی گئی، باقی ڈیڑھ کروڑ کو لاپتا کردیا گیا ہے


Editorial November 07, 2017
کراچی کی آبادی ڈیڑھ کروڑ ظاہر کی گئی، باقی ڈیڑھ کروڑ کو لاپتا کردیا گیا ہے۔ فوٹو: فائل

ملک گیر مردم شماری اور اسی کی آئینی بنیاد پر نئی حلقہ بندیوں کی بحث کسی ٹھوس نتیجہ پر تاحال نہیں پہنچ سکی ہے جس کے باعث بادی النظر میں آیندہ الیکشن سے پہلے شفاف انتخابات کے انعقاد پر اتفاق رائے تو درکنار مختلف آرا ، تجاویز اور مطالبات کا ایک اعصاب شکن پینڈورا بکس کھلنے کے آثار دکھائی دے رہے ہیں ۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور دیگر وزرا اگرچہ حلقہ بندیوں کے بل پر اتفاق ہوجانے کا یقین دلارہے ہیں تاہم اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے مردم شماری سمیت حلقہ بندیوں سے پیدا ہونے والے تنازع میں شدت روز بروز بڑھتی جارہی ہے جسے حل کرنے کے لیے ارباب اختیار، اپوزیشن جماعتیں، الیکشن کمیشن اور محکمہ شماریات کے ماہرین اور فہمیدہ سیاسی اکابرین کو مل کر الیکشن روڈ میپ کی مشترکہ تیاریوں پر قومی اتفاق رائے کی کوئی صورت نکالنی چاہیے اور اس مسئلہ کو پوائنٹ اسکورنگ یا منفی سیاست کا رنگ نہیں دینا چاہیے۔

حقیقت یہ ہے کہ مردم شماری کے حتمی سرکاری نتائج کا مکمل اعلان ہوجاتا تو نوبت یہاں تک نہ پہنچتی جب کہ عبوری نتائج ، آبادی میں کمی بیشی کے شماریاتی گورکھ دھندہ ، قومی و صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں کے اعلانات اوراندازوں کی تشہیر سے معاملات الجھ کر رہ گئے ہیں کیونکہ مسئلہ پنجاب میں سیٹوں کی کمی یا خیبر پختونخوا کی آبادی میں اضافہ ، کراچی و سندھ کی آبادی کو بوجوہ کم دکھانے پر سیاسی اضطراب اور بے اطمینانی تک محدود نہیں ،اس آتش فشاں مسئلہ کی کوکھ سے جنم لینے والے ڈیموگرافک تبدیلیوں اور پیش کردہ شماریاتی حقائق سے سیاسی اپوزیشن جماعتوں کی لاتعلقی کا ہے جس کے فوری ازالہ کے لیے نتیجہ خیزکوششیں بروئے کار لانی چاہئیں، چونکہ مشرقی پاکستان کی آبادی کم دکھانے یا پیرٹی کا اصول نافذ کرنے کی مہم جوئی اور ضد، قوم بنگلہ دیش کے قیام کی صورت دیکھ چکی ہے ۔

-مردم شماری کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ آبادی ہر جگہ بڑھی ہے، اسی طرح نقل مکانی بھی ہوئی ہے، شہروں میں آبادی کے تناسب، شہری و دیہی انخلا ، خانہ شماری اور ووٹرز کی بڑی تعداد کو ان کے حلقوں سے نکال کر دیگر مقامات میں ان کے اندراج کے اعتراضات اٹھائے گئے، اپوزیشن جماعتوں نے پنجاب میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں میں رد وبدل، اور نقل مکانی سے منسلک حقائق کو صیغہ راز میں رکھنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے، بلوچستان کے قوم پرست سیاست دان پہلے ہی ریڈ انڈین بنائے جانے کے خوف کے باعث مردم شماری کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں جب کہ گزشتہ روز ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار نے پورے سندھ میں مردم شماری دوبارہ کرانیکا مطالبہ کردیاہے، انھوں نے لیاقت آباد میں جلسے سے خطاب میں کہا کہ یہ مردم شماری نہیں، آدم خوری ہے۔

کراچی کی آبادی ڈیڑھ کروڑ ظاہر کی گئی، باقی ڈیڑھ کروڑ کو لاپتا کردیا گیا، ہمارے 80 لاکھ ووٹر حذف کر دیے گئے، فاروق ستار نے کہا کہ آبادی کم ظاہر کر کے نئی حلقہ بندیاں کی جائیں گی اس حوالے سے پارلیمنٹ میں جو بل لایا جائے گا اس کی حمایت کیسے کریں گے؟ لاکھوں بنگالیوں کے شناختی کارڈ بلاک کردیے ہیں، انھیں فوری طور پر تسلیم کیا جائے، جلسے میں5 قراردادیں پیش کی گئیں جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ درست مردم شماری کرائی جائے، اس وقت صورتحال خاصی گنجلک ہے، اپوزیشن جماعتیں سختی سے اپنے موقف پر ڈٹی ہوئی ہیں ۔ مردم شماری نتائج اور حلقہ بندیوں پر عدم اتفاق نے پنجاب ، بلوچستان ، سندھ اور خیبر پختونخوا میں سیاسی جماعتوں کو ڈیموگرافک مخمصہ پر احتجاج پر مجبور کردیا ہے ،ادھر حکومت اور اپوزیشن جماعتوں میں حلقہ بندیوں سے متعلق آئینی ترمیم کے معاملے پر تعطل دور نہیں ہوسکا ، اسپیکر نے متعلقہ اپوزیشن جماعتوں سے رابطے کیے ہیں ۔

اپوزیشن کی بڑی جماعت یہ معاملہ مشترکہ مفادات کونسل میں لے جانے کا مطالبہ کررہی ہے جب کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آئینی ترمیم کے لیے 10نومبر کی ڈیڈلائن مقررہ کرتے ہوئے آئینی اقدامات کے التواء میں رہنے کو عام انتخابات میں تاخیر کا خدشہ ظاہر کردیا ہے ۔ اندیشہ ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی ان جماعتوں کو قائل نہ کرسکے تو حکومت کے لیے آئینی ترمیم کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظوری کے لیے مشکلات کھڑی ہوجائیں گی۔ اس دلدل سے نکلنے کے لیے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے تجویز دی ہے کہ 2018ء میں ہونے والے عام انتخابات گزشتہ مردم شماری کے مطابق کرائے جائیں۔ تاہم یہ کڑوی گولی ہے تحریک انصاف قبل از وقت الیکشن چاہتی ہے۔

خورشید شاہ نے ایک انٹرویو میں کہا جب تک پیپلز پارٹی کے حال ہی میں ہونے والی مردم شماری کے نتائج اور اعداد و شمار کے حوالے سے خدشات دور نہیں کیے جاتے تب تک وہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں کی نئی حلقہ بندیوں کے حوالے سے ایوان میں بحث کے لیے لائے گئے آئینی ترمیمی بل کی کبھی حمایت نہیں کرے گی۔ وزیر داخلہ برائے مملکت طلال چوہدری نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت نئی حلقہ بندیوں سے متعلق قانون سازی کے حوالے سے حزب اختلاف کی جماعتوں کے تمام تحفظات اور اعتراضات دور کرے گی۔ لہٰذا وقت آگیا ہے کہ اسٹیک ہولڈرز الیکشن کی شفافیت کو ہر چیز پر مقدم سمجھتے ہوئے لازمی بریک تھرو کریں۔ لیت و لعل کی اب کوئی گنجائش نہیں۔