کریں بھی تو کیا کریں رونے کے سوا
لیکن جب بھی منہ کھولنا چاہتے ہیں تو ایسا کچھ بھی سمجھ میں نہیں آتا جو پہلے کہا نہ گیا ہو
MUZAFFARABAD:
لکھنا اور بولنا ہم بھی چاہتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ لکھیں بھی تو کیا لکھیں، بولیں بھی تو کیا بولیں کیوں کہ جو کچھ لکھنا تھا، وہ سب لکھا گیا جو بولنا تھا، وہ بھی سب بولا گیا لیکن اب بھی لکھا اور بولا جا رہا ہے لیکن ہوا کیا؟ سارے قلم بے اثر ہو چکے ہیں۔
ساری زبانیں بے تاثیر ہو چکی ہیں، لفظ گونگے بن چکے ہیں، آوازیں بے معنی ہو چکی ہیں، صرف ایک شور ہے جو سنائی دے رہا ہے، ہر سینہ چاک ہے، ہر دل داغ داغ ہے اور ہر آنکھ خون بدخشاںہے لیکن وہی ہو رہا ہے جس کے بارے میں کوئی نہیں بتا سکتا ہے کہ یہ کیا ہو رہا ہے کیوں ہو رہا ہے اور کس لیے ہو رہا ہے، چنانچہ ہم بھی لکھنا چاہتے ہیں، بولنا چاہتے ہیں کیوں کہ ہمارا اندرون بھی پھٹا جا رہا ہے بقول غالب
پر ہوں میں شکوہ سے یوں راگ سے جیسے باجا
اک ذرا چھیڑیئے پھر دیکھیے کیا ہوتا ہے
لیکن جب بھی منہ کھولنا چاہتے ہیں تو ایسا کچھ بھی سمجھ میں نہیں آتا جو پہلے کہا نہ گیا ہو، جب بھی قلم اٹھاتے ہیں تو ایسا کوئی جملہ ہاتھ نہیں لگتا جو پہلے سنا نہ ہو پڑھا نہ ہو بلکہ بار بار سنا نہ ہو پڑھا نہ ہو، جتنا کچھ کہنا چاہیے تھا،اس سے زیادہ کہا جا چکا ہے، جتنا لکھنا چاہیے تھا، اس سے کئی گنا زیادہ لکھا جا چکا ہے، قلم تھک گئے، الفاظ گونگے ہو گئے، زبانیں شل ہو گئیں، کان پک گئے لیکن کچھ بھی فرق پڑتا نظر نہیں آ رہا ہے۔
کوئی بھی اثر دکھائی نہیں دے رہا ہے، وہی نفرت وہی خونریزی وہی حیوانیت وہی بربریت اور وہی رقص ابلیس ہے، جو نہ صرف جاری ہے بلکہ روز بروز لمحہ بہ لمحہ ساعت بہ ساعت اس میں اور زیادہ تیزی اور زیادہ پھیلائو اور زیادہ شدت پیدا ہو رہی ہے، کیا ہم کو کسی نے بد دعا دی ہے یا خدا ہم سے ناراض ہو گیا ،کیا ہم پاگل ہو گئے ہیں، کیا ہم انسانیت، مذہب اخلاق اور عقل سب کھو چکے ہیں، کیا ہم واقعی انسان ہیں یا حیوان بن چکے ہیں، تعجب تو یہ ہے کہ ؎
مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی،
اور جو اہل درد ہیں ان کا حال صرف وہی جانتے ہیں
سختی کشان عشق کی پوچھے ہو کیا خبر
وہ لوگ رفتہ رفتہ سراپا الم ہوئے
ظاہر ہے کہ ان میں سے ایک ہم بھی ہیں جو ہر چڑھتے دن کے ساتھ دھڑکتے دل کے ساتھ اخبار اٹھاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ نئی خبریں اس سے بھی زیادہ ہیں جتنے کا ڈر تھا، ایسا لگتا ہے جیسے پاکستانی معاشرہ خود اپنے آپ ہی کو مٹانے پر تل گیا ہو کیوں کہ
ہستی ہماری اپنی فنا پر دلیل ہے
یاں تک مٹے کہ آپ ہم اپنی قسم ہوئے
جب سیکڑوں درد بھرے ایس ایم ایس آتے ہیں اور اس میں بار بار یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ ''وائی آر یو سائلنٹ'' تو لگتا ہے جیسے دل میں کوئی دیوار سی گری ہو ابھی اور اس کے نیچے گھر کا سارا اثاثہ چکنا چور ہو گیا ہو اور اپنے کچھ اور بچے کچل گئے ہوں، جی چاہتا ہے کہ ان سب لوگوں کے پاس جایا جائے اور سینے میں کرچی کرچی ہونے والے دل کا چورا ان کے آگے رکھ دیں
حال دل لکھوں کب تک جاؤں ان کو دکھلاؤں
انگلیاں فگار اپنی خامہ خوں چکاں اپنا
ہم اگر سائلنٹ ہیں تو بولیں بھی تو کیا بولیں اور کس سے بولیں کہ یہاں تو سب ہی بولنے والے ہیں سننے والا ایک بھی نہیں ہم اگر سائلنٹ ہیں تو بہت زیادہ شور کی وجہ سے جب کوئی سن ہی نہیں رہا ہو تو کیا کہیں اور کس سے کہیں کیوں کہ
سب سمجھتے ہیں اور سب چپ ہیں
کوئی کہتا نہیں کہ تم سے کہیں
جب شور حد سے زیادہ بڑھ جاتا ہے اور کچھ بھی سنائی دکھائی اور سجھائی نہ دے رہا ہو تو یوں سمجھ لیجیے کہ کوئی کچھ بھی نہیں کہہ رہا ہے
گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیونکر ہو
کہے سے کچھ نہ ہوا پھر کہو تو کیونکر ہو
جی ہمارا بھی چاہتا ہے اور بہت چاہتا ہے کہ سائلنٹ نہ رہیں لیکن کیا کریں کوئی سننے والا بھی تو ہو یہاں توسارے کہنے والے ہیں، کہتے ہیں دیواروں کے کان ہوتے ہیں لیکن زبانیں نہیںہوتیں لیکن یہاں دیواروں کی زبانیں لمبی لمبی ہیں لیکن کان کسی کے بھی نہیں ہیں،
چاک جگر سے جب رہ پرسش نہ وا ہوئی
کیا فائدہ کہ حبیب کو رسوا کرے کوئی
ایسا کیا ہے جو اب تک کہا نہ گیا ہو، لکھا نہ گیا ہو اور دکھایا نہ گیا ہو وہ سب کچھ جو قلم اور زبان سے ادا کیا جا سکتا ہے، کہا اور لکھا گیا ہے لیکن کہیں پر کوئی ذرا سا اثر بھی دکھائی نہیں دے رہا ہے، انسانیت کے واسطے دیے گئے، اسلام کی دہائیاں دی گئیں، ایک خدا ایک رسول ایک دین اور ایک کتاب کے نام پر رحم کی اپیلیں کی گئیں لیکن خونریزی کم ہونے میں ہی نہیں آ رہی ہے، کم کیا اور زیادہ بڑھ رہی ہے اور زیادہ پھیل رہی ہے۔
نہیں دل میں مرا وہ قطرہ خوں
جس سے مژگاں ہوئی نہ ہو گلباز
ہمیں تو کچھ ایسا لگتا ہے جیسے اپنے وطن کے باسی بالکل ہی پاگل ہو گئے ہوں کیوں کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ کوئی پاگل ہی کر سکتا ہے، اس سے زیادہ پاگل پن اور کیا ہو گا کہ جس خدا اور رسول نے ''جس کام'' سے منع کیا ہوا ہے، وہی کام انھی کے نام پر ہو رہے ہیں، ان ہی کے نام پر وہ کچھ ہو رہا ہے جسے انھوں نے سختی سے منع کر رکھا ہے وہ تو کہتے ہیں کہ
لا اکراہ فی الدین
دین میں کوئی زبردستی نہیں ہے کیوں کہ حق اور باطل کو باقاعدہ واضح کر دیا گیا جس کا جس طرف مرضی ہو جا سکتا ہے کیوں کہ آنا تو اسی کے پاس ہے کوئی کچھ بھی کرے نہ تو زمین و آسمان کے دائروں سے نکل سکتا ہے نہ بھاگ سکتا ہے اور نہ اپنی کسی حرکت کی جوابدہی سے بچ سکتا ہے، یہ تو ایسا ہے کہ جسے کوئی سپاہی کسی ملزم کو عدالت تک پہنچنے سے پہلے ہی سزا دے ڈالے کیا، ایسے سپاہی سے کوئی عدالت خوش ہو سکتی ہے، ہر گز نہیں بلکہ عدالت کی توہین کا مستوجب قرار دیا جا سکتا ہے جب دنیا کی معمولی حکومتوں اور عدالتوں نے کسی فرد کو فیصلہ کرنے اور سزا دینے کا اختیار نہیں دیا بلکہ اسے ایک بڑا جرم گردانا جاتا ہے تو کیا وہ سب عدالتوں سے برتر و اعلیٰ عدالت یہ برداشت کر لے گی کہ کسی معمولی اہل کار نے عدالت کا کام اپنے ہاتھ میں لیا ہوا ہے۔
ہم اس پر کہیں بھی تو کیا کہیں جب ان کو خدا اور رسول کا کوئی لحاظ نہیں خدا اور اس کے رسول کی باتیں پیروں تلے روند رہے ہیں تو ہم جیسے بے بضاعت قلم کاروں کی کیا بساط ہے اور پھر کہنے سننے کا اثر تو ایک نارمل اور صحیح الدماغ شخص پر ہو سکتا پاگل اور باؤلے لوگوں سے کچھ کہنا ہی بیکار ہے، باقی تو شاید سب کچھ کہا جا چکا ہے لکھا جا چکا ہے لیکن جو بات شاید ابھی تک نہیں کہی گئی وہ یہ ہے کہ یہ جو کچھ ہو رہا ہے نہ یہ جہاد ہے نہ قتل و قتال ہے نہ دہشت گردی ہے نہ فرقہ بندی ہے بلکہ سراسر خودکشی ہے جب کوئی کسی کو مارتا ہے تو وہ سب سے پہلے خود ہی کو مار ڈالتا ہے۔
اپنی انسانیت کو اپنے ضمیر کو اپنی شرف کو اور اپنے دین و ایمان کو مار ڈالتا ہے کیوں کہ یہ تو ہو ہی نہیں سکتا ہے کہ عمل کا ردعمل نہ ہو اور یہ عمل و ردعمل ہی کا سلسلہ ہے جو چل رہا ہے پشتو میں ایک کہاوت ہے کہ اگر تم میرا کمبل پھاڑو گے تو میں تمہاری شال کیوں نہیں پھاڑوں گا چنانچہ دوسرے کا کمبل پھاڑنے کا صاف مطلب اپنی ہی شال کو پھاڑنا ہے دنیا میں ایسا کوئی عمل ممکن ہی نہیں جس کا رد عمل نہ ہو۔