پاکستان بھی اپنا مائنڈ سیٹ بدلے

افغانستان میں دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو ختم کرنا ہوگا


Editorial November 08, 2017
افغانستان میں دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو ختم کرنا ہوگا. فوٹو: فائل

پاکستان میں تعینات امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل نے پاکستان پر دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کُن کارروائی کرنے پر زور دے کر اس حقیقت کی طرف بلیغ اشارہ کردیا ہے کہ امریکا خطے اور افغانستان میں امن کے لیے پاکستان سے کثیر جہتی توقعات اور احکامات کا پشتارہ لیے بیٹھا ہے، امریکی سفیر کا کہنا ہے کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے اور خواتین کو تحفظ فراہم کرنے تک دباؤ جاری رکھا جائے گا، ٹرمپ حکومت تمام مسلح گروہوں کے ساتھ ایک ہی طریقے سے نمٹے گی۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے گزشتہ روز یہاں پاکستان اور امریکا کے درمیان ٹریک ٹو ڈائیلاگ کے چوتھے دور میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ مذاکرات میں وزیر خارجہ خواجہ آصف، سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ، سابق سفارتکاروں، امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل، ولسن سینٹر کے مائیکل کوگلمین اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔

قطع نظر اس کے کہ پاکستانی وزیرخارجہ خواجہ آصف نے امریکی سفیر کی معروضات کا عملیت پسندانہ جواب دیتے ہوئے مسئلے کی نبض پر ہاتھ رکھا تاہم افغانستان میں شورش زدہ صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے ان کا قطعی انداز میں یہ کہنا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کا کوئی منظم وجود نہیں ایک ٹرننگ پوائنٹ ہے جو امریکا ہی نہیں پوری دنیا کو دہشت گردوں کے پاکستان میں وجود سے انکار کے پاکستانی موقف پر حیرت میں ڈال سکتاہے جب کہ سفارتی پیرائے میں پاکستانی سیاسی وعسکری قیادتوں سے استفسار کیا جا سکتا ہے کہ اگر دہشتگردوں، طالبان دھڑوں اور دیگر کالعدم جہادی تنظیموں کے خفیہ یا بے نام ٹھکانوں کاکوئی وجود نہیں تھا تو جنوبی و شمالی وزیرستان اور سوات میں آپریشن کیوں کیا گیا۔کراچی ٹارگیٹڈ آپریشن اور پھر آپریشن ضرب عضب کو دہشتگردی کے خاتمہ کی جنگ سے تعبیر کیوں کیا گیا، اسی طرح آپریشن ردالفساد کا تسلسل بھی اسی جنگ کی کڑی ہے۔

لہذا پاک امریکا تعلقات اور خطے کی ہولناک ڈائنامکس اور جدلیات سے ماورا غیرلچکدار موقف ٹرمپ انتظامیہ کوتذبذب میں ڈال سکتا ہے کہ پاکستانی خارجہ پالیسی تبدیل نہیں ہوئی ، مزید براں پاکستان افغان صورتحال پر امریکا ،افغانستان ، بھارت تکون nexus کو ذمے دار ٹھہرا رہا ہے، اس لیے اندیشہ ہے کہ یہ استدلال اور موقف کہ افغانستان میں موجود تحریک طالبان پاکستان کے مفرور اور پاکستانی سرحد پار سکونت پذیر دہشتگرد وں کی موجودگی ہی شورش ،دہشتگردی اور بدامنی کی جڑ ہے۔ پاک امریکا تعلقات اور نئی امریکی پالیسی کے اہداف کے باعث مزید تناؤکا سبب بنے گی۔

اس لیے ضرورت اس بات کی ہے پاکستان خطے کی جدلیات کا نتیجہ خیز اور موثر حل پیش کرے، ہماری خارجہ پالیسی امریکیوں کو حقائق کے درست ادراک پر مائل کرے، حکمراں سرد جنگ کی نرگسیت سے دامن چھرائیں، وزیر خارجہ کسی دام فریب میں آئے بغیر ماضی کی تزویراتی گہرائی، طالبان کے ظہور وعروج، ملک میں دہشتگرد تنظیموں کے برپا کیے گئے فساد اور تباہ کاریوں اورقتل وغارت سے امریکیوں کو لاعلم نہ سمجھیں۔ امریکی سفیر کے مطابق پاکستانی قیادت نے افغانستان میں قیام امن کے لیے کوششیں تیز کرنے کا یقین دلایا ہے، ٹرمپ انتظامیہ نے بھارت سے افغانستان میں اقتصادی سطح پر ڈو مور کا مطالبہ کرتے ہوئے اس پر زور دیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنایا جائے۔

امریکا کی نئی حکمت عملی علاقائی بنیادوں پر ہے جس کا مقصد دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا خاتمہ اور اقتصادی خوشحالی میں اضافہ کرنا ہے۔ وزیرخارجہ خواجہ آصف نے مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا پاک امریکا اسٹرٹیجیکل اختلافات کا اعتراف جب کہ امریکا کے ساتھ اعتماد کے فقدان کے آج بھی برقرار رہنے کی حقیقت واضح کی، ان کا کہنا بجا تھا کہ امریکا کی مشروط پالیسی سے افغان مفاہمتی عمل کو دھچکا لگا ہے پھر بھی پاک بھارت تنازعات کے خاتمہ میں پاکستان امریکی کردار اور خطے کے حالات کی بہتری کے لیے ہر کوشش کا خیرمقدم کرے گا لیکن اس کے لیے افغانستان میں دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو ختم کرنا ہوگا جب کہ پاکستان پر الزام تراشی کا تسلسل افسوسناک ہے۔

ارباب اختیار ہمہ وقت چوکس رہیں کہ امریکا افغانستان میں اپنے مفادات کے لیے پاکستان پر ''زیرو ان'' عقابی نگاہ رکھے ہوئے ہے، ٹلرسن 20 دہشتگرد تنظیموں کی فہرست ہمیں تھما چکا ہے، وہ پاکستان کو آخری موقع دینے اور ساتھ نہ دینے پر یک طرفہ کارروائی کا انتباہ بھی کرچکے ہیں، ادھر شرق اوسط میں شعلے بلند ہورہے ہیں، ملکی سیاسی صورتحال گمبھیرتا ہوتی جارہی ہے،اہم ایشوز پر قومی اتفاق رائے کے داخلی فقدان سے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ چنانچہ ضرورت اس بات کی ہے کہ دنیا کو پاکستان کی طرف سے خطے میں امن کا مثبت پیغام جائے اور امریکا سمیت دنیا کو یقین آجائے کہ افغانستان میںبھارت کی بدنیتی مضمر خرابی ہے جب کہ پاکستانی موقف منطقی، جائز، قابل غور اور لائق اعتبار ہے۔

امریکا خود سفارتی سطح پر تجرباتی پبلک ڈپلومیسی میں سافٹ پاور کی نئی پالیسی پر عمل پیرا ہے جس کا مقصد امریکی دانشور اور تھنک ٹینک یہ بتاتے ہیں کہ اکیسویں صدی میں خطرات اور مواقعے امریکی اقتصادی انجن کو بے سمت کرچکے، اب امریکا کمیونزم کے خاتمہ، دہشتگردی مخالف اسٹرٹیجی اور آزادی کا عالمی ڈھونگ رچانے کے بجائے تین ارب نفوس پر مشتمل نئے مڈل کلاس طبقے کو ہینڈل کرنے کی سوچ رہا ہے جو وسائل کی جنگ، شورشوں کا سبب اور عالمی ماحولیاتی تباہ کاریوں کے لیے خطرہ نہ بنے۔ پاکستان کو بھی اپنا مائنڈ سیٹ اب بدلنا ہوگا۔