میٹھے بول میں جادو نہیں شوگر

کڑواہٹ کی ماں تو سچ ہے اور سچ کو میٹھا بنانا ایسا ہے جیسے ’’تمبے‘‘ کا مربع بنایا جائے۔


Saad Ulllah Jaan Baraq November 10, 2017
[email protected]

یہ ایک زمانے میں بیسٹ سیلر کتاب تھی جسے ڈیل کارنیگی نام کے کسی امریکی نے لکھا تھا بعد میں اسی قبیل کی اور بھی کتابیں آئیں لیکن سارا مکھن ڈیل کارنیگی لے گیا تھا۔ یہاں ہمارے ہاں بھی ایک دینی کتاب تقریباً ایسی ہی بیسٹ سیلر کتابوں میں تھی کہ ''مرنے کے بعد کیا ہوگا'' اس جیسی بھی بہت ساری کتابیں آئیں لیکن وہ بات پیدا نہیں ہو پائی۔

دینی کتب اور معاملات پر تو ہم کچھ بھی عرض نہیں کریں گے اور نہ فرمائیں گے کیونکہ آج دینی جوش و جذبہ انتہائی عروج پر ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ بقول چوہدری صاحب ہم کسی پیڑ سے لٹکے ہوئے نظر آئیں یا ہمارے سر اور گردن کے درمیان فاصلہ پیدا ہوجائے یا پتھروں سے کچلی ہوئی لاش کو پہچاننے میں دقت ہو رہی ہو اور یہ تو ہم بار بار بتاتے رہے ہیں کہ ہم پشتون بھی محض نام کے ہیں کام کے بالکل نہیں۔

اندازہ اس سے لگائیں کہ آج کل ہم نماز چھپ چھپا کر کسی خلوت میں پڑھتے ہیں۔ مسجد میں جانے سے اس لیے ڈر رہے ہیں کہ اگر کسی کو ہماری نماز رکوع و سجود وغیرہ میں اپنے عقیدے کے خلاف کچھ نظر آیا کانوں کو ہاتھ لگانے میں کوئی بھول چوک ہوئی یا التحیات میں انگشت شہات کا زاویہ کچھ غلط ہو گیا تو خدا تو شاید معاف فرمادے لیکن عقیدے والے ''اپنا استحقاق'' ہر گز ''التوا'' میں نہیں ڈالیں گے فوراً کسی مقام پر ''نمٹا'' دیں گے۔

حالات کی نزاکت اور دینی جوش و جذبے کے عروج کا اندازہ اس سے لگائیں کہ ہمارے بیٹے نے کہیں گاڑی پر ہمارے نام کا سٹکر لگایا تو دوسرے دن وارننگ ملی نام فوراً ہٹا دیا جائے کیونکہ ہمارے نام میں ''اللہ'' کا لفظ ہے اور اس گردو غبار پر پڑ جاتا ہے جواب ہمارے پاس تھا لیکن کیسے دیتے کہ آخر یہ گردوغبار یہ سٹرکیں یہ ہوائیں یہ فضائیں کس کی ہیں۔

خیر اصل موضوع کی طرف آتے ہیں ڈیل کارنیگی نے میٹھے بول میں جادو کا نہ صرف انکشاف کیا تھا بلکہ ''بول'' کو میٹھا کرنے کا نسخہ بھی بتایا تھا اور یہ وہی نسخہ ہے جس سے زیادہ شیریں فرہاد کی شیریں تو کیا کوئی بھی شیریں نہیں ہو سکتی ہے۔نام لینے سے پہلے ڈیل کارنیگی ہی کا ایک واقعہ سنا دیں تو بہتر ہے کہتے ہیں ایک بہت بڑے سرمایہ دار کو بیمہ کمپنیوں سے چڑتھی یا کوئی اور وجہ تھی کہ وہ لائف انشورنس نہیں کراتا تھا۔ دنیا بھر کی بیمہ کمپنیوں نے کوشش کی اپنے چالاک سے چالاک ایجنٹ بھیجے لیکن وہ پکڑائی نہیں دے رہا تھا۔

ایک دن وہ دفتر میں بیٹھا تھاکہ ایک مجہول سا نوجوان ملگجے اور مسکے ہوئے لباس میں اس سے ملنے آیا 'پہلے تو وہ دروازے میں کھڑا کچھ کانپتا رہا زرد چہرہ لیے کھڑا تھا اور ہونٹ بے آواز ہل رہے تھے' سرمایہ دار نے اسے اندر بلایا حوصلہ بڑھا نے کے لیے کرسی پر بیٹھایا، اور پھر بڑی شفقت سے پوچھا کہئے کیاکام ہے۔ وہ شخص کچھ بولنے کی کوشش کرنے لگا لیکن آواز نہیں نکلی جیسے گلا سوکھ رہا ہو۔ سرمایہ دار نے اسے پانی پلایا حوصلہ دیا کہ آرام سے بیٹھ کر بلا جھجک اپنا مدعا پیش کرے۔

وہ شخص لمبی لمبی سانسیں لینے اور ادھر ادھر دیکھ کر گبھرانے لگا پھر منہ کھول کر کہا۔ سر سرمایہ دار نے کہا ہاں ہاں کہو نوکری چاہیے؟ اس نے سر ہلا کر انکار کیا تو پوچھا چندہ چاہیے نوجوان نے پھر انکار کیا۔ سرمایہ دار کو اور بھی۔۔۔یہ کتنا بیچارہ شخص ہے کہ ضرورت تو ہے لیکن اپنی ضرورت بیان کرنے کی ہمت اس میں نہیں چنانچہ خوب خوب تسلی دینے اور کافی وغیرہ پلانے پر جب وہ نوجوان کچھ حوصلہ مند نظر آیا توپھر پوچھا اب کہو کیا کام ہے۔

جی وہ میں۔لائف انشورنس۔ اتنا کہ کروہ پھر ہانپنے لگا پھر کافی حوصلہ کرکے بولا۔ اگر آپ۔۔۔۔ سرمایہ دار سمجھ گیا کہ نوجوان شاید بیروزگاری کی وجہ سے اس لائن میں آ تو گیا ہے لیکن اتنا بے ہمت ہے تو یہ بچارہ کیا چلے گا۔ چنانچہ اس نے ارزاہ ترحم اس سے ایک بھاری پالیسی خریدلی کہ کچھ تو سہارا اسے ملے۔ نوجوان چلا گیا تو اس نے اس بیمہ کمپنی کے منیجر کو فون کر کے کہا یہ تم کس قسم کے ایجنٹ رکھنے لگے ہو۔ پھر پورا قصہ سناتے ہوئے اس کا مذاق اڑایا جواب میں منیجر نے بتایا کہ یہی تو ہماری کمپنی کا سب سے منجھا ہوا اور تجربہ کار ایجنٹ ہے اسے معلوم تھا کہ چالاک ایجنٹوں کو تو تم بھگا لیتے ہو اس لیے مسکین بن کر تمہارے پاس گیا اور کامیاب لوٹ آیا۔

اب تو آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ ''بول'' میں ''جادو'' کونسا ڈالا جاتا ہے اور وہ کونسی شیرینی ہے جس سے بول میٹھا بنتا ہے۔ ڈیل کارنیگی کی وہ کتاب شاید آپ نے بھی پڑھی ہوگی لیکن یہ آج تک پتہ نہیں ہوگا کہ اس نے وہ اپنے ایجنٹ کا کردار اپنی کتاب میں کس خوبی سے نبھایا ہے۔ جھوٹ کو آج تک شاید ہی کسی اور نے اتنا پرکشش اور مفید ثابت کیا ہوگا۔ لیکن اس نے کمال ہنر مندی سے جھوٹ کی وہ تبلیغ کی ہے کہ اب تک شاید ابلیس سے بھی نہ ہو سکی ہو۔کبھی کبھی تو ہمارے جی میں آتا ہے کہ انسان کتنا ڈھیٹ ہے کتنا بے شرم اور بے حیا ہے کہ اس دھٹائی اور بے شرمی کے ساتھ لوگوں کو جھوٹ کے فوائد سمجھا رہا ہے حالانکہ یہ اس کا بھی وہم ہے انسان کو جھوٹ سکھانا ایسا ہے جیسے کوئی مچھلی کے بچے کو تیرنا، سپولیے کو ڈسنا اور پرندے کو اڑانا سکھائے۔ میٹھے بول میں جادو ہے، کیا کمال کا جھوٹ ہے ایک سیدھی سی بات کو کیا ہنر مندی سے جادو بنا دیا ہے۔

سیدھے سمجھاؤ صاف صاف کیوں نہیں کہتے کہ جھوٹے بول میں جادو ہے کیونکہ کڑواہٹ کی ماں تو سچ ہے اور سچ کو میٹھا بنانا ایسا ہے جیسے ''تمبے'' کا مربع بنایا جائے۔ غالباً یہ جو ڈیل کارنیگی صاحب ہیں ان کا خاندانی پیشہ ''مربے'' بنانے کا تھا لیکن اس نے اپنے آبائی فن کو اسی درجۂ کمال تک پہنچا دیا کہ کریلے زقوم اور چونگان کا مربع بھی بنا کر پیش کردیا ہے۔

میٹھے بول میں جادو تب آسکتا ہے جب آپ کسی خرِ ناپرسان کو حکیم لقمان کہہ دیں، چیونٹی کو ہاتھی بنادیں اور رائی کو پہاڑ میں بدل دیں۔ ویسے ہم یہاں سچ اور جھوٹ کی بحث نہیں کر رہے ہیں بلکہ یہ اطلاع دینا چاہتے کہ یہ اس ڈیل کارنیگی کے بچے کی اس کتاب کا لازمی نتیجہ ہے کہ شوگر کی بیماری از حد بڑھ گئی ہے اور یہ پھر بھی کہتا ہے میٹھے بول میں جادو ہے جادو نہیں بلکہ ذیابیطس ہے اس لیے تو بزرگوں نے کہا ہے:

جھوٹ بولے کوا کاٹے، کالے کوے سے ڈریو۔

اگر آپ اب بھی میٹھے بول میں جادو کرنا چاہتے ہیں تو آپ کی مرضی شوگر جانے اور آپ۔