ٹرمپ کا یوٹرن
حقیقت کے ادراک نے ٹرمپ کو اب ایسا یوٹرن لینے پر مجبورکردیا ہے کہ اب شمالی کوریا کو بلیک میل کرنا آسان نہیں۔
PESHAWAR:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے یہ خیال عام ہے کہ موصوف نہ صرف غیر معمولی جذباتی انسان ہیں بلکہ اپنی ذات میں ایسے مجموعہ اضداد ہیں کہ ان کی کسی بات پر یقین کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ عرصے سے موصوف شمالی کوریا کو جنگ کی جو دھمکیاں دے رہے تھے اور فرمارہے تھے کہ اب امریکا کے پاس شمالی کوریا کو راہ راست پر لانے کے لیے جنگ کے سوا کوئی آپشن نہیں بچا۔
ٹرمپ کے ان اعلانات کی وجہ سے ساری دنیا کے اہل فکر سخت تشویش میں مبتلا تھے کہ خدانخواستہ یہ پاگل شخص ایٹمی جنگ میں پہل کردے تو اس دنیا کے انسانوں کی زندگی اور وجود کس قسم کے خطرات میں گھر جائے گا۔ لیکن ہم نے ان ہی کالموں میں اس حقیقت کو اُجاگر کرنے کی مسلسل کوشش کی تھی کہ ٹرمپ کتنا ہی بڑا جذباتی اور غیر متوازن کیوں نہ ہو وہ ایٹمی جنگ کے خطرناک مضمرات سے ناواقف نہیں ہوسکتا۔
اس کے علاوہ امریکا کے ایوان زیریں اور ایوان بالا میں ایسے لوگ بہرحال موجود ہوںگے جو ایٹمی جنگ کے خطرناک مضمرات کو سمجھتے ہوںگے وہ ٹرمپ کو اس حوالے سے من مانی کی اجازت ہرگز نہیں دے سکتے، ہم نے اس حقیقت کی بھی نشان دہی کی تھی کہ اب شمالی کوریا نہ صرف ایٹمی ہتھیار بنانے میں کامیاب ہوگیا ہے بلکہ کھلے عام کہہ رہا ہے کہ وہ اپنے ایٹمی ہتھیاروں سے امریکا کے شہروں کو نشانہ بناسکتا ہے اور ضرورت پڑی تو وہ امریکا کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے میں کوئی دیر نہیں کرے گا۔ جب تک شمالی کوریا کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں تھے امریکا شمالی کوریا کو بلیک میل کرنے میں آزاد تھا لیکن ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں کامیابی کے بعد اب امریکا کے لیے یہ ممکن نہیں رہا کہ وہ شمالی کوریا کو ایٹمی ہتھیاروں سے ڈراسکے۔
غالباً اسی حقیقت کے ادراک نے ٹرمپ کو اب ایسا یوٹرن لینے پر مجبورکردیا ہے کہ اب شمالی کوریا کو بلیک میل کرنا آسان نہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے ایک تازہ بیان میں شمالی کوریا کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے یہ حیرت انگیز دعا کی ہے کہ شمالی کوریا کے خلاف کبھی طاقت کا استعمال کرنا نہ پڑے۔ ٹرمپ کی اس دعا سے یہ بہر حال اندازہ ہوجاتا ہے کہ ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکیاں دینے اور ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے میں بڑا فرق ہے۔
ٹرمپ کے مجموعہ اضداد ہونے کا ایک ثبوت یہ ہے کہ موصوف جہاں شمالی کوریا کو مذاکرات کی دعوت دے رہے ہیں اوردعا کررہے ہیں کہ شمالی کوریا کے خلاف انھیں کبھی ایٹمی ہتھیار استعمال نہ کرنا پڑے وہیں موصوف نے شمالی کوریا کے خلاف طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے بحر الکاہل میں بحری جنگی مشقوں کا اعلان کیا ہے۔
جاپان کے ذرایع ابلاغ کے مطابق امریکی حکومت کے عہدیداروں کا کہناہے کہ ان مشقوں میں تین امریکی طیارہ بردار جہاز حصہ لیںگے، تینوں طیارہ بردار بحری جہاز آپریشنل سمندری حدود میں پہنچ چکے ہیں تینوں بحری جہازوں کی ایشیا وبحر الکاہل میں 2007 کے بعد یہ پہلی مشترکہ جنگی مشق ہوگی۔ خیال ہے کہ امریکا ان مشقوں کے ذریعے شمالی کوریا پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کررہا ہے۔
یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ امریکی افواج نے صدر ٹرمپ کے دورۂ ایشیا سے قبل جزیرہ نما کوریا کے لیے آبدوزیں ریڈار پر نظر نہ آنے والے طیارے اور بھاری بمباری طیارے پہنچادیے ہیں۔ ان ساری حرکات کا مقصد شمالی کوریا کو دھمکانے کے علاوہ کیا ہوسکتا ہے۔ امریکی صدر کی غیر متوازن شخصیت کا اندازہ اس حقیقت سے ہوسکتا ہے کہ وہ ایک طرف شمالی کوریا کو مذاکرات کی پیشکش کررہے ہیں تو دوسری طرف جنگی مشقیں کررہے ہیں۔
دنیا کے احمق حکمران ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری اور ذخیرہ اندوزی کا یہ جواز پیش کرتے ہیں کہ ایٹمی ہتھیاروں کی وجہ سے طاقت کا ایک توازن قائم ہوگیا ہے اور اس نام نہاد توازن کی وجہ سے کوئی ایٹمی ملک ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے میں پہل نہیں کرسکتا۔ بلاشبہ ایٹمی ہتھیاروں کی تباہ کاریوں کے پیش نظر کوئی پاگل ہی ہوگا جو ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کے بارے میں سوچے گا۔ لیکن اس حقیقت سے انکار کیسے کیا جاسکتا ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے دوران 1945 میں امریکا ہی کے ایک صدر نے جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرانے کا فیصلہ کیا اور اس فیصلے پر عمل در آمد بھی کردیاگیا۔
کہا جاتا ہے کہ ہٹلرکی بڑھتی ہوئی پیش قدمی کو روکنے کے لیے ایٹم بم کا استعمال ضروری تھا چونکہ جاپان جرمن کا اتحادی تھا سو جاپان کے شہروں پر ایٹم بم گرانا ضروری سمجھاگیا۔ شمالی کوریا کے حکمران نہ صرف ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں بلکہ ان امریکی شہروں کے نام بھی بتادیے ہیں جنھیں وہ نشانہ بنائیں گے۔ کیا شمالی کوریا کی یہ دھمکیاں ٹرمپ جیسے لا اُبالی اور جذباتی شخص کو کسی مرحلے پر شمالی کوریا کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی ترغیب نہیں فراہم کرسکتے؟
اصل خرابی یہ ہے کہ دنیا بھر کے ملکوں پر جو لوگ حکمرانی کررہے ہیں وہ ہر حال میں قومی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں اور قومی مفادات کے تحفظ کا یہ فلسفہ حکمرانوں کو جنگوں کے فیصلے کرنے کی طرف لے جاتا ہے جب تک دنیا پر حکمرانی کرنے والوں کے وژن میں بامعنی تبدیلی نہیں آئے گی اور وہ قومی مفادات کے حصار سے نکل کر عالمی مفادکو اپنا وژن نہیں بنائیںگے دنیا جنگوں کے خطرات سے نجات حاصل نہیں کرسکتی۔
اگرچہ شمالی کوریا اور امریکا کے درمیان کشیدگی بہت شدید مرحلے میں داخل ہوگئی ہے لیکن کیا بھارت اور پاکستان ایران اور اسرائیل کے درمیان موجود تناؤ کسی وقت وہ شدت اختیار نہیں کرسکتا جو امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان دیکھا جارہاہے؟ اس شدید کشیدگی اور تناؤ کے باوجود امریکی صدر شمالی کوریا کو مذاکرات کی پیشکش کررہے ہیں اور اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ دنیا کے ہر مسئلے کا حل خواہ وہ مسئلہ کس قدر بھی سنگین کیوں نہ ہو مذاکرات ہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر جنگوں سے بچا جا سکتا ہے۔ جب دنیا کا حکمران طبقہ اس حقیقت سے با خبر ہے کہ تنازعات مذاکرات ہی سے حل کیے جاسکتے ہیں تو پھر ہتھیاروں اور جنگوں کا جواز کیا رہ جاتا ہے؟
جب تک دنیا کا حکمران طبقہ قومی مفادات کے حصار سے نکل کر اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرے گا کہ جنگوں کی اصل اور بنیادی وجہ انسانوں اور ملکوں کی تقسیم ہے جب تک انسان امریکی، روسی، چینی، بھارتی، پاکستانی، اسرائیلی اور ایرانی میں منقسم رہے گا۔ ایٹمی ہتھیار بھی بنائے گا اور جنگیں بھی کرتا رہے گا۔ جب تک انسان ہندو مسلمان سکھ عیسائی اسرائیلی اور عربی میں منقسم رہے گا ان ساری لعنتوں کا شکار رہے گا۔
بلاشبہ مذہبی اور مسلکی تقسیم انتظامی اور انسانی شناخت کے لیے ضروری ہے لیکن کیا اس تقسیم کو نفرتوں، تعصبات میں گھسیٹنے کے بجائے محبت، بھائی چارے اور انسانی یکجہتی کی حدود میں نہیں لایا جاسکتا۔ اگر ایسا کیا جاتا ہے تو نہ دنیا کو روایتی ہتھیاروں کی ضرورت رہے گی نہ ایٹمی ہتھیاروں کی۔ کیا انسان ان مخلوطہ پر سوچنے پر آمادہ ہوگا۔