روزگار میں خود کفالت زندہ باد
وہ دن دور نہیں جب نہ تو کوئی بے روزگار رہے گا اور نہ ہی کسی ایسی ویسی دیہاڑی کو منہ لگائے گا
اب تک تو ہمیں پکا پکا یقین نہیں تھا کہ پاکستان کسی چیز میں '' خود کفیل '' بھی ہو جائے گا کیونکہ ایک عرصے سے ہم یہ '' خود کفالت ''کی بانسری سنتے آرہے ہیں۔
ایوب خان کے آخری سالوں میں تقریباً روزانہ سنتے تھے کہ پاکستان اگلے سال غلے میں خود کفیل ہو جائے گا پھر اس کے بعد فخر ایشیا قائد عوام (بروزن قائد اعظم ) بانی جمہوریت (خاندانی ) نے روٹی کپڑا مکان میں خود کفالت کا مژدہ سنایا اور سیاست معیشت اور مذھب کو تھری ان ون کردیا ۔ مرد حق ضیاء الحق نے پاکستان کو اسلام میں خودکفیل کرنے کا بیڑہ اٹھایا جو امریکی جہاد میں بدل گیا ۔
اس کے بعد کسی نہ کسی چیز میں خود کفیل ہونے کا مژدہ سنتے رہے لیکن سوائے سیاسی پارٹیوں اور لیڈروں کے کسی بھی چیز میں خود کفیل نہ ہوئے بلکہ پارٹی اور لیڈروں میں بھی خود کفیل نہیں ہیں کہ اکثر پارٹیوں کی خودکفالت لندن ، دبئی میں چلی جاتی ہے۔لیکن اب ہمیں یقین ہو چلا ہے کہ کم از کم ایک چیز کے بارے میں تو ہم خود کفیل ہونے والے ہیں بلکہ ہو چکے ہیں لیکن سرکاری طور پر ابھی اس کا اعلان ہونا باقی ہے اوروہ چیز ہے '' روزگار'' اور وہ بھی بالکل غیر متوقع طور پر یعنی اس کے لیے براہ راست اور منظم طریقے پر کوئی کوشش نہیں ہوئی ہے بلکہ وہ بات ہوئی ہے کہ آگ لینے گئے اور پیغمبری مل گئی ۔ یا جیسے ہمارے اسفند یار ولی خان نے فرمایا ہے کہ ہم تو صرف پختون خوا مانگ رہے تھے لیکن دینے والوں کا بھلا ہو کہ انھوں نے ساتھ میں '' خیبر'' بھی دے دیا۔ہوتا ہے، اکثر اس طرح کے کاموں میں اس طرح ہی ہوتا ہے 'پشتو میں ایک ٹپہ بھی اس کیفیت کا ہے کہ
دیدن مے غوختو خولہ ئے را کڑہ
خدایہ سخی جانان لہ ورکڑے جنتونہ
یعنی میں تو '' اس '' سے صرف دید یعنی ملاقات مانگ رہا تھا مگر اس نے ملاقات کے ساتھ ساتھ '' بوسہ '' بھی دے دیا خدا ایسے سخی محبوب کو جنت دے دے ۔
ایک اور ٹپے میں ہے کہ تم نے مجھے پھول دیا اور ہنسی بھی ۔ میں پھول سے زیادہ اس ہنسی کے لیے تمہارا ممنون ہوں ۔ہمارے بچپن کا واقعہ ہے چینی کی شدید قلت ہوگئی تھی اس زمانے میں سبز چائے ہر مرض کا علاج ہوتی تھی ہمیں گھر سے پیسے ملے کہ چینی تو ملتی نہیں ہے فلاح دکاندار سے بتاشے لے آنا لیکن کہنا کہ سفید بتاشے دے ہم سبز چائے میں ڈالنا چاہتے ہیں ۔
ہم نے اس دکاندار کو یہی بتایا تو بولا سفید بتاشے کیوں ؟ وجہ بتائی تو بولا ۔ تو میرے پاس چینی ہے نا ۔ ہماری خوشی کی انتہا نہ رہی جب اس نے کونے سے ایک جار نکال کر چینی دے دی گھر پہنچتے ہی ہم دور سے چلائے کہ چینی مل گئی ۔ سارا گھر گویا عید کی خوشی میں نہا گیا۔
یہ جو ''روزگار '' ہمیں ملا ہے بلکہ روز گار میں خود کفیل ہوگئے اس کے پیچھے بھی کوئی اور محرک نہیں بلکہ '' ٹریفک جام ''اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ہاتھ ہے۔پہلے زمانوںمیں تو خاص خاص مقامات چوراہوں وغیرہ پر ٹریفک جام ہوتی تھی اورکچھ ہوشیار لوگ اپنے بھک منگوں کی '' فوج'' ان مقامات پر اتاردیتے تھے جو شام تک اچھی خاصی کمائی کر لیتی تھی، جنگ مافیا کے ہاتھ میں تھی اور ان میں باقاعدہ چوراہوں کی تقسیم اور خرید و فروخت بھی چلتی رہتی تھی ۔
بلکہ خاص خاص '' بھکاریوں '' کی خرید و فروخت کا دھندہ بھی چلتا تھا ۔ مثلاً ایک زمانے میں ہمیں یاد ہے کہ ایک خاتون جو ہر لحاظ سے خدا ترس تھی اور اس کی شکل کے ساتھ ساتھ اس کی کئی معذوریاں اور آواز بھی نہایت بھک آور تھی سب سے زیادہ قیمتی بھکارن تھی کئی لوگوں نے بڑی بڑی قیمتیںبھی آفر کی تھیں لیکن '' مالک '' ایسی سونے کی چڑیا کسی اور کو دینے کے لیے تیار نہیں تھا ۔بلکہ ہمیں اپنے گاؤں کا ایک قصہ بھی معلوم ہے چاربیٹوں نے اپنے باپ کو جو معذور اور بیمار بھی تھا کو کوڑے کی طرح پھینک دیا تھا۔ ایک رحم دل آدمی نے ترس کھا کر اس کا علاج کرنے کے لیے اسے اٹھایا اور اسپتال لے گیا۔
اسپتال کی ایک دیوار کے ساتھ اسے بٹھا کر بلکہ ٹکا کر جب وہ پرچی وغیرہ بنانے گیا تو کافی وقت لگ گیا تھا واپس آیا تو دیکھا کہ بوڑھا دیوار کے ساتھ بے سدھ پڑا ہے لیکن اس کے آس پاس بہت سارے سکے بھی پڑے ہوئے ہیں، آدمی ہوشیار تھا سمجھ گیا اور ایک طرف ہو کر بیٹھ گیا، شام تک بوڑھے کے پاس اچھا خاصا مال جمع ہو گیا تھا ۔ آدمی نے سوچا علاج کرنے سے علاج نہ کرنا ہی بہتر ہے یہاں وہاں سے کچھ انٹ شنٹ گولیاں لیں اور بوڑھے کو واپس گھر لے گیا پھر اس کا یہ معمول ہو گیا، بوڑھے کو لادکر اسپتال لادتا اور شام تک بٹھا کر اچھی خاصی کمائی کے ساتھ لے جاتا۔ کچھ عرصہ بعد بوڑھے کے بیٹوں کو پتہ چل گیا کہ بڈھا تو بڑا کماؤ نکلا چنانچہ اس شخص کے ساتھ پھڈا ڈال دیا اور آخر کار اپنے باپ کو قبضے میں لینے میں کامیاب ہو گئے اور باری باری اس کی '' خدمت '' کرنے لگے ۔
خیر یہ تو محض اس روزگار کی اہمیت اور منافع ہونے کی بات آگئی لیکن اب وہ چوراہوں والی بات کہیں نہیں رہی، ٹریفک اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنے جس انتظام سے ہر سڑک پر ایسے انتظامات کیے ہوئے ہیں کہ چوبیس گھنٹے ٹریفک جام کی سہولت میسر ہے اور کسی بھی چوراہے یا جگہ کی تخصیص نہیں رہی ہے، آپ جہاں سے شروع کریں گے وہیں سے سویرا والی بات ہے ۔ اس زبردست روزگار کی روز افزونی اور ہمہ گیری دیکھ کر ہم پیشگوئی کر سکتے ہیں کہ اہل پاکستان کو اب روز گار کی کوئی چنتا نہیں کرنی چاہیے ۔ ہاں حکومت کو اس سلسلے میں اپنی مدد جاری رکھنا پڑے گی ۔ بینظیر انکم سپورٹ اور اس طرح کے دوسرے '' روزگار '' جاری رکھنا پڑیں گے تاکہ تربیت کا سلسلہ جاری رہے، اس سے دہرا تہرا بلکہ چوہرا فائدہ ہوگا ۔
ایک فائدہ تو روزگار کا ہے جو اب پاکستان میں سرکاری طور پر منظور شدہ رجسٹرڈ اور قانونی کاروبار ہے بلکہ حکومت خود بھی یہی روز گار اپنائے ہوئے ہے۔دوسرا فائدہ یہ ہوگا حکومتی کھلاڑی آرام سے اپنا کھیل جاری رکھیں گے مقدمہ مقدمہ ، دھرنا دھرنا جلسہ جلسہ اور الیکشن الیکشن اور بیانات کی قوالیاں اطمینان سے جاری رکھیں بلکہ ہمارا تو خیال ہے کہ جرائم میں بھی کمی ہو سکتی ہے اور حکومتی اداروں کو بھی کیونکہ پولیس اور خاص طور پر ٹریفک پولیس بھی ایک اور شکل میں یہی دھندہ اپنا رہی ہے ۔لیکن سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ جلسوں دھرنوں جلوسوں اور دوسری سرگرمیوں کے لیے خام مال ہر وقت دستیاب ہوگا ۔ جس کو بھی کرنا کرانا ہو اس روز گار کے ٹھیکیداروں سے فی راس یا فی لاٹ معاملہ کرکے کروا سکے گا۔ اس روز گار کی کامیابی اور ہمہ گیری سے پتہ چلتا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب نہ تو کوئی بے روزگار رہے گا اور نہ ہی کسی ایسی ویسی دیہاڑی کو منہ لگائے گا ۔