جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن اور امریکی پالیسی

طاقت کا توازن یکطرفہ طور پر بھارت کے حق میں ہو گیا تو اس کے خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں


Editorial November 17, 2017
طاقت کا توازن یکطرفہ طور پر بھارت کے حق میں ہو گیا تو اس کے خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں۔ فوٹو: فائل

PESHAWAR: صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ امریکا کی بھارت کو خطے میں ایک بڑی طاقت کے طور پر سامنے لانے کی کوشش سے خطے کا امن خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ بھارت اپنے طور پر بھی خطے کے تمام ممالک کو دباؤ میں لانے کی روش پرگامزن ہے اورگرد و نواح کے سارے چھوٹے ممالک بھارت کی اس ہٹ دھرمی سے نالاں اور شکوہ کناں ہیں جن میں نیپال، مالدیپ، بھوٹان اور بنگلہ دیش شامل ہیں ایسی حالت میں ان کی نگاہیں لامحالہ طور پر پاکستان کی طرف اٹھتی ہیں جو بھارت کے مقابلے میں مضبوط چٹان کی طرح ڈٹ کر کھڑا ہے اور بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کو کامیاب ہونے کی راہ میں مزاحم ہے۔

صدر مملکت نے مزید کہا کہ مسئلہ کشمیر کا ستر برس سے حل نہ ہونا خطے کے امن میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور اس کو حل کیے بغیر خطے میں امن محض ایک خواب ہی رہے گا، صدر مملکت گزشتہ روز کراچی انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل افیئرز کے زیراہتمام "جنوبی ایشیا میں امن" کے موضوع پر منعقدہ کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ صدر مملکت نے کہا کہ علاقائی امن کے لیے ضروری ہے کہ تمام تصفیہ طلب مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے کیونکہ متعدد حل طلب سیاسی و جغرافیائی مسائل کی وجہ سے خطے کا امن داؤ پر لگ چکا ہے جسے افغانستان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور دہشتگردی کے معاملات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر، سر کریک اور سیاچن جیسے مسائل جنوبی ایشیا میں استحکام کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔

اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ امریکا اس خطے میں طاقت کا توازن بھارت کے حق میں کرناچاہتا ہے اور اس سلسلے میں بھارت کو فوجی اور معاشی اعتبار سے مضبوط کرنے میں کوشاں ہے۔ امریکا افغانستان میں بھی بھارت کا کردار بڑھا رہا ہے' حالات کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ جنوبی ایشیا میں تناؤ' کشیدگی اور محاذ آرائی کی بڑی وجہ بھارت کا رویہ ہے' اب چونکہ اسے امریکا' یورپ اور اسرائیل کی بھی حمایت حاصل ہو گئی ہے' اس لیے وہ اس خطے کے باقی ممالک کو اپنے زیرنگیں کرنا چاہتا ہے' یہی وہ عنصر ہے جس کی نشاندہی صدر مملکت نے کی ہے۔ امریکا کو اپنی اس پالیسی پر غور کرنا چاہیے' اس خطے میں تنازعات کے خاتمے کے لیے یہاں طاقت کا توازن برقرار رہنا چاہیے۔ اگر طاقت کا توازن یکطرفہ طور پر بھارت کے حق میں ہو گیا تو اس کے خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں۔