جمہوریت سے عوام کی ٹوٹتی امیدیں (چوتھا حصہ)

شاہد کاظمی  جمعـء 2 دسمبر 2016
جمہوریت کا دور دورہ تو ہے، مگر عوام کی جو امیدیں اپنے نمائندوں سے تھیں وہ نہ صرف ٹوٹ چکی ہیں بلکہ  اب تو مایوسی اپنے اندھیرے پھیلا رہی ہے۔

جمہوریت کا دور دورہ تو ہے، مگر عوام کی جو امیدیں اپنے نمائندوں سے تھیں وہ نہ صرف ٹوٹ چکی ہیں بلکہ اب تو مایوسی اپنے اندھیرے پھیلا رہی ہے۔

حکومتِ وقت، اپوزیشن اور ادارے، اِن سب کی ناکامی پر سیر حاصل بحث کی جاچکی ہے۔ مگر حیران کن طور پر وفاق کی تمام اکائیاں بھی اپنا کردار ادا کرنے میں یکسر ناکام نظر آتی ہیں۔ صوبوں کا کردار پاکستان کی فلاح میں ایسا ہی ہے جیسے ایک نکھٹو بیٹا والدین کے لئے زحمت کا باعث بنا ہوا ہو۔ اٹھاہوریں ترمیم سے پہلے اور بعد کے حالات میں کسی بھی قسم کا کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا۔ جس صوبائی خودمختاری کا ڈھنڈورا صبح شام پیٹا جاتا ہے، نہ جانے وہ کیسا ہما ہے اور کس کے سر بیٹھ کے کیا گل کھلائے گا۔ کیوںکہ اس وقت بھی وفاق کی مداخلت صوبوں میں نہ ہونے کے برابر ہے اور صوبے کُلی نہیں تو جزوی طور پر خود مختار ہی ہیں، مگر وہ اپنی خود مختاری کو یا تو جانتے نہیں یا جانتے بوجھتے نااہلی سے تباہی پھیلا رہے ہیں۔

پنجاب پاکستان کے رقبے کے لحاظ سے دوسرا بڑا اور آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے۔ دس کروڑ سے زائد آبادی والے اس اہم ترین صوبے میں طویل عرصے سے ایک ہی جماعت کے اقتدار کے باجوود اس صوبے میں سوائے مائیک گرانے، سڑکوں پر گھسیٹنے کے وعدوں، سیاسی محاذ آرائیوں، گلو کریسی، جٹوانہ انداز اور شیر کی دھاڑ جیسے کارناموں کے کوئی قابل ذکر کارنامہ سر انجام نہیں دیا جاسکا۔ تعلیم کی مفت فراہمی ایک وعدے سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ راقم کو کچھ دن پہلے ایک سرکاری اسکول میں جانے کا اتفاق ہوا۔ جہاں پلاننگ کا یہ حال ہے کہ پہلے سے تعمیر شدہ عمارت کی بحالی کی طرف توجہ ہی نہیں دی گئی اور وہ کھنڈر میں تبدیل ہونا شروع ہوگئی۔ جبکہ اسی چارد دیواری کے اندر نئی عمارت بنا دی گئی۔ شاید پرانی عمارت کو قابل غور اس لیے نہیں سمجھا گیا ہوگا کہ نئی تعمیر میں کوئی دل لگی کا عنصر شامل ہوگا۔

آپ اس تحریر کو بھول جائیں اور چند لمحوں کے لئے اور پنجاب کے کسی بھی ایک ضلع کی کسی بھی ایک مخصوص تحصیل کی مثال لیں، اس مخصوص تحصیل میں سے ایک اسپتال، اسکول اور تھانہ سامنے رکھ لیں۔ آپ پر ساری صورت حال واضح ہوجائے گی۔ آئینی ترامیم کے بعد اب صوبے جس نہج پر ہیں ان میں تو یہ بھی قصہ مختصر ہوتا جارہا ہے کہ وفاق ہاتھ نہیں دھرتا اور پنجاب جیسے زرعی صوبے کا حال یہ ہے کہ کسان ناکافی سہولیات کی وجہ سے خودکشیوں پر مجبور ہیں اور یارانِ نکتہ چیں تو پنجاب کو فلاحی کے بجائے پولیس اسٹیٹ کا نام دیتے نظرآتے ہیں۔

ماڈل ٹاؤن سانحہ ہو یا کسی بھی عام ناکے کا آپ بذات خود مشاہدہ کیجئے، جس طرح راقم نے مشاہدہ کیا کہ پنجاب پولیس اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ عوام ان سے دور بھاگتی ہے۔ اینٹی کرپشن کے جائزوں کے مطابق پنجاب پولیس کا ادارہ پنجاب کے تمام اداروں میں سے سب سے زیادہ کرپٹ ہے۔ صوبوں میں بڑا بھائی کہلانے والا اس حال میں ہے کہ بڑے بھائی جی فافن کے ایک جائزے کے مطابق کرپشن میں پہلے نمبر پر ہیں اور ایسا کیوں نہ ہو کہ پنجاب میں سیاسی مداخلت کی ایک پوری تاریخ ہے۔ سیاسی عدم استحکام بھی اس صوبے کا خاصہ ہے کہ کم و بیش 20 سال سے ایک ہی جماعت کی حکومت ہوتے ہوئے بھی یہ صوبہ اس وقت تک ایک مثالی صوبہ نہیں بن سکا۔ سب سے بڑا نہری نظام اس صوبے کے پاس حالت نا گفتہ بہ صرف پنجاب میں ہی ینگ ڈاکٹرز ایک مافیا سا بنتے جارہے ہیں۔ ڈسکہ میں وکلاء کی ہلاکت ہو یا یوحنا آباد فسادات، جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ کو نظر انداز کرنا ہو یا 16 گھنٹے سے زائد کی لوڈ شیڈنگ، ہر لحاظ سے حکومت عوام کو ریلیف دینے میں یکسر ناکام ہے۔

مالی اعتبار سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کا حال یہ ہے کہ اساتذہ، ڈاکٹر، پینشنرز، کسان سڑکوں پر براجمان ہیں کہ ان کو ان کا حق نہیں دیا جا رہا۔ چند ہفتے پہلے ایک نجی ٹی وی کے مطابق تین اضلاع کے چھ سو گیارہ ملازمین ڈبل اکاؤنٹ پر ڈبل تنخواہیں وصول کرتے رہے۔

جرائم کی شرح میں دن بدن اضافہ، عصمتیں غیر محفوظ، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، جنوبی پنجاب کی محرومیاں، ملازمین کے لیے نامساعد حالات، کارِ سرکار میں سیاسی مداخلت، سیاسی بنیادوں پر عہدوں کی بندر بانٹ پاکستان کے معاشی و آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے کا خاصہ ہیں مگر پھر بھی سب اچھا کی نوید سنائی جاتی ہے کیوںکہ اقتدار ایک ہی در کی باندی دو دہائیوں سے بنا ہوا ہے۔ وہ بھی بلا شرکت غیرے کہ درمیان میں جو چند روز اقتدار گیا وہ بھی اپنے اعتبار کے اشخاص تک گیا۔ جمہوریت کا دور دورہ ہے، مگر صوبوں کے بڑے بھائی میں عوام کی جو امیدیں اپنے نمائندوں سے تھیں وہ نہ صرف ٹوٹ چکی ہیں بلکہ مایوسی بھی اپنے اندھیرے پھیلا رہی ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لئے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کےساتھ [email protected] پر ای میل کریں۔
شاہد کاظمی

شاہد کاظمی

بلاگر کی وابستگی مختلف روزناموں بشمول، روزنامہ جناح، روزنامہ اوصاف سے رہی ۔ آج کل بلاگر ہفت روزہ ہائی کلاس نیوز کے ساتھ بطور ایڈیٹوریل سربراہ منسلک ہیں۔ بلاگر سے ان کے ٹویٹر www.twitter.com/ssakmashadi اور فیس بک پر www.facebook.com/100lafz رابطہ کیا جا سکتا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔