US
صفحۂ اول
تازہ ترین
رمضان
کھیل
فیکٹ چیک
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
رائے
بڑے کاروباری طبقات حکومت کے سامنے دہائی دے چکے ہیں کہ ان حالات میں معاشی ترقی کے نعرے سوائے جذباتیت کے اور کچھ نہیں
ہمارے رائے عامہ سے جڑے افراد یا ادارے بانجھ پن سے باہر نکلیں، حالات کا مقابلہ کریں اور لوگوں کو تیارکریں
اب وقت آگیاہے کہ ہم اپنے طرزعمل میں تبدیلی لائیں اورکچھ کرکے دکھائیں وگرنہ حالات کے بگاڑاورنقصان کے ہم ہی ذمے دارہونگے
ق لیگ کی ایک بڑی خوبی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ عدم ٹکراو کی پالیسی ہے
جو تضاد اور تقسیم معاشرے میں موجود ہے اس سے نمٹے بغیر آگے کا راستہ مشکل ہوگا
جب تک قدرتی آفات سے نمٹنا حکومت کی ترجیح نہیں بنے گی،کوئی بڑا کام نہیں ہوسکتا ہے
ہمیں جو سیاسی فہم، تدبر، فہم وفراست یا موثر سیاسی حکمت عملی درکار ہے اس کا فقدان بھی دیکھنے کو ملتا ہے
سیاسی فریقین کے درمیان کیسے سیاسی لچک پیدا ہو اورتمام فریقین ایک دوسرے کے لیے اپنے اپنے اندر راستہ بھی پیدا کریں
فوری طور پر مسائل کا حل اتفاق رائے پر مبنی تلاش نہیں کیا گیا تو حالات کی سنگینی ہمیں اور پیچھے کی طرف لے جائے گی