صفحۂ اول
تازہ ترین
پی ایس ایل 11
کھیل
فیکٹ چیک
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
رائے
اگر ہم افغانستان سے الجھتے یا ٹکراؤ کرتے ہیں تو اس کا فائدہ بھارت کو ہی ہوگا
ہمیں اس وقت اپنے موجودہ سیاسی اور سماجی کلچر اور طور طریقوں کا کڑا احتساب کرنا ہے
اب دیکھنا ہوگا کہ 23دسمبر کو کیا سب کچھ ایسا ہی ہوگا جیسا عمران خان نے نقشہ کھینچا ہے
مسئلہ سیاسی نظام میں ٹکراؤ یا اختیارات کے نام پر سیاسی جنگ کا نہیں
یہ سیاسی تقسیم محض سیاست، سیاسی جماعتوں، قیادت، سیاسی کارکنوں، ان کے سپورٹرز تک محدود نہیں
بڑے کاروباری طبقات حکومت کے سامنے دہائی دے چکے ہیں کہ ان حالات میں معاشی ترقی کے نعرے سوائے جذباتیت کے اور کچھ نہیں
ہمارے رائے عامہ سے جڑے افراد یا ادارے بانجھ پن سے باہر نکلیں، حالات کا مقابلہ کریں اور لوگوں کو تیارکریں
اب وقت آگیاہے کہ ہم اپنے طرزعمل میں تبدیلی لائیں اورکچھ کرکے دکھائیں وگرنہ حالات کے بگاڑاورنقصان کے ہم ہی ذمے دارہونگے
ق لیگ کی ایک بڑی خوبی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ عدم ٹکراو کی پالیسی ہے