US
صفحۂ اول
تازہ ترین
رمضان
کھیل
فیکٹ چیک
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
رائے
آصف زرداری نے خود اپنی سیاست سے حکومت کے اندر بھی ایک سافٹ پیغام دیا ہے کہ ہم اس نظام کو چلانا چاہتے ہیں۔
اسلام آباد کی نشست پر شکست نے یقینی طور پر حکومت کو سیاسی محاذ پر کمزور کیا ہے۔
محض بڑی بڑی بلڈنگز، یا بڑے بڑے ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ انسانوں پر بڑی سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔
اس وقت پاکستان کی مجموعی سیاست کو دیکھیں تو اس میں امید کے پہلو کم اور مایوسی کا عنصر زیادہ غالب نظر آتا ہے۔
1973 کا آئین تمام صوبائی حکومتوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ ان مقامی جمہوری اداروں کی تشکیل ، انتخابات کو یقینی بنائیں۔
جو بھی جماعت انتخابات جیتی ہے اس کے بقول یہ انتخابات بہت ہی آزادانہ اور شفافیت پر مبنی تھے۔
موجودہ پی ڈی ایم کے بیانیہ کا جو سیاسی پیکیج ہے وہ محض حکومت کو گرانے اور عمران خان حکومت کو چلتا کرنے سے ہے۔
اس بار سیاسی محاذ آرائی یا ٹکراؤ کی سیاست میں ایک پہلو حزب اختلاف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ٹکراؤ بھی نظر آتا ہےَ
لوگوں کو لگتا ہے کہ ہم بطور ریاست، حکومت، معاشرہ سمیت ہر پہلو میں ناکام ہوگئے ہیں۔
حزب اختلاف کے اتحاد کے تحت ہونے والے جلسوں میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار پر سیاسی گفتگو یقینی طور پر مناسب نہیں۔