صفحۂ اول
تازہ ترین
کھیل
فیکٹ چیک
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
بلاگ
رائے
ہم دیکھتے ہیں کہ مسلم دنیا کے بیشتر ممالک سیاسی عدم استحکام کا شکار ہیں اس کی بنیادی وجہ جمہوری نظام سے لاتعلقی ہے۔
ہمارے معاشرے کا یہ رویہ انتہا پسندانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے
کہتے ہیں کہ تاریخ سے ہمیں ایک سبق یہ بھی ملتا ہے کہ وہ یہ ہے کہ مسائل تاریخی عمل کا نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔
ہمارے ملک میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے، جو آمریت کو ہی ملک کے سیاسی مسائل کا حل سمجھتے ہیں۔
ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ اس طرز سیاست نے ملک کو سیاسی عدم استحکام سے دوچارکیا اور ملک کو تباہی کے سوا کچھ نہیں دیا۔
سرمایہ داری نظام کے حامی ممالک نے مذہب کو کمیونزم کے خلاف بطور آلہ کار استعمال کیا۔
مادہ پرستانہ سوچ کو مفاد پرستانہ سوچ کا نام دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔
آج جب میں اپنے ارد گرد کے ماحول پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے بہت سے لوگوں کا یہ ہی رویہ نظر آتا ہے۔
ہمارے یہاں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ سچ وہی ہے جسے وہ سچ سمجھتے ہیں۔
یہ انسان ہے جس نے اپنے مفادات کے تحت دوسرے انسان کے لیے اس کی خوراک کے حصول کو مشکل بنا دیا ہے۔