صفحۂ اول
تازہ ترین
کھیل
فیکٹ چیک
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
بلاگ
رائے
آخر ایسی کیا مشکل آپڑی ہے کہ ہم مسلسل سوشل میڈیا کے جن کو قابو کرنے کے لیے بے تکے اقدامات کا سہارا لے رہے ہیں؟
اب بھی وقت ہے میاں صاحب اپنی ضد کو ایک طرف رکھتے ہوئےعوامی امنگوں کے مطابق فیصلہ کرلیں۔
وہ بار بار اپنا پنجہ کسی نہ کسی بچے کی پشت پر نرمی سے پھیرتی جیسے اُسے اٹھا رہی ہو کہ اُٹھو اور دودھ پی لو۔ ماں جو تھی
فیلڈ میں کام کرنے والے صحافی جانتے ہیں کہ کچھ پتا نہیں کب ’’ٹھاہ‘‘ کی آواز آئے اور اُن کی سانسوں کی ڈور ٹوٹ جائے۔
پتنگ بازی تہوار سے بڑھ کر المیہ بنتی جارہی ہے، اس میں سےدھات نکال کر پھردھاگہ رکھ دیجیے، بس بسنت اتنی سی التجا کرتی ہے
اگر آپ نےچوں چوں کا مربہ صرف محاوروں میں سنا ہے توآپ بلوچستان حکومت کی شکل میں اسکی عملی اور واضح مثال دیکھ سکتے ہیں
ہر بچے کو چائلڈ لیبر کا نام نہ دیجیے، بلکہ اپنا کردار ادا کیجیے اور کام کرنے والے بچوں کو اچھا ماحول دیجیے۔
تحریک انصاف سے قومی اور خیبر پختونخواہ کی حد تک جتنی امیدیں وابستہ کرلی تھیں رفتہ رفتہ دم توڑتی جارہی ہیں۔
یہ جمہوریت تو نہیں ہے، بادشاہت ہے اور بادشاہت میں امیدیں ٹوٹتی ہیں تو ٹوٹ جائیں مگر اعتراض کی اجازت نہیں۔
صوبوں کا کردار پاکستان کی فلاح میں ایسا ہی ہے جیسے ایک نکھٹو بیٹا والدین کے لئے زحمت کا باعث بنا ہوا ہو۔