صفحۂ اول
تازہ ترین
کھیل
فیکٹ چیک
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
بلاگ
رائے
کیا یہ منافع بخش ادارہ نہیں تھا، کیا ملازمین چور تھے؟ افسران بھی اچھے تھے ریلوے وزیر بھی اچھے تھے حکمران بھی ٹھیک تھے۔
ریلوے کی آمدنی کا زیادہ تر انحصار گڈز ٹرینیں عرف عام میں مال گاڑیاں یا فریٹ ٹرینیں ہوتی تھیں۔
آج پاکستان میں مزدور سیاسی جماعتوں کے علاوہ مذہب، فرقہ، زبان، قومیت اور علاقے کے نام پر تقسیم ہو چکے ہیں۔
یہ ہم سب کے لیے بہتر ہے۔ ابھی تو چھوٹے اور معصوم بچوں میں کورونا بڑھ رہا ہے، تمام اسکول بند کردیے گئے ہیں۔
ملک بھر میں اچھے ترقی پسند دانشور، شاعر، کالم نگار بھی اخبارات اور جرائد میں کالم ومضامین بھی لکھتے ہیں۔
تین دن لوٹ مار جاری رہی ریلوے کے سگنل توڑ ڈالے، گاڑیوں، ٹرینوں اور اسٹیشنوں کو جلا دیا گیا۔
ہم سب سمیت پوری قوم مایوسی کی طرف چلی گئی اور یہ کھیل آمروں کا جاری رہا۔
اب اگرآپ نے نج کاری کرنی ہے تو پھر پوری ایک ٹرین کی مکمل نجکاری کریں تاکہ صرف ٹکٹ بیچنے کا ٹھیکہ دے دیں۔
ریلوے کا نام آتے ہی مسافروں کا پہلا واسطہ لال رنگ کا کرتا پہنے ہوئے نمبرقلی یا لوڈرسے پڑتاہے جن کاکوئی پرسان حال نہیں۔
یہ منصوبہ تین مراحل میں مکمل کیا جائے گا۔