US
صفحۂ اول
تازہ ترین
خاص خبریں
کھیل
فیکٹ چیک
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
رائے
سانحہ ماڈل ٹاؤن کا مقدمہ اس وقت عدالتوں میں زیر سماعت ہے۔ اس کی تاخیر میں کوئی حکومتی ادارہ ذمے دار نہیں ہے۔
یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اس وقت پیپلزپارٹی نے ہی اسٹبلشمنٹ کی سیاسی گیم کو سہارا دیا ہوا ہے۔
یہ حکومت کی جانب سے اس بات کا اعتراف ہے کہ وہ ٹیکس اکٹھا کرنے اور ٹیکس چوروں کو پکڑنے میں ناکام ہو گئی ہے۔
اگر ملک میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوتے ہیں تو کہا جائے گا کہ مجھے کیوں نکالا کے ثمرات سامنے آرہے ہیں۔
ایک دور تھا کراچی میں مذہبی جماعتوں کی حکومت تھی۔ نورانی کی حکومت تھی جماعت اسلامی کی حکومت تھی۔
آج پاکستان کے یہ اصل حاکم خوف کا شکارہیں۔ ان کو محسوس ہو رہا ہے کہ ہاتھ ان کے گلے تک پہنچ گیا ہے۔
عام آدمی کو تو شاید احساس نہیں ہے کہ روپے کی اس بے قدری کے نتائج کیا ہوں گے۔
کیا شاہد خاقان عباسی یہ چاہتے ہیں کہ ہم یہ یقین کر لیں کہ مسلم لیگ (ن) میں فیصلے کسی فورم پر ہوتے ہیں۔
وہ لڑائی کو اس نہج پر لے گئے ہیں جہاں وہ اب چاہیں بھی تو ان سے مفاہمت نہیں ہو سکتی۔
پولیس کو ہمارے معاشرہ میں محبت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔