US
صفحۂ اول
تازہ ترین
پی ایس ایل 11
کھیل
فیکٹ چیک
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
رائے
کپی کا لفظ یقیناً آپ کے لیے اجنبی ہو گا کیونکہ یہ نام یا اصطلاح صوفہ ازم کے کامریڈوں نے ایجاد کیا ہوا تھا۔
دانشور آدمی تھا چونک گیا کہ اس جواب میں کہیں اس کااپنا سراور ماتھا تو مذکور نہیں۔
حقیقت کشمیر ہے نہ ثالثی ہے نہ ٹرمپ ہے نہ موڈی ہے نہ عمران ہے بلکہ مہنگائی ہے۔
کچھ نہیں بولوں گا چپکے چپکے رو لوں گا اور خواب میں چیچڑوں کے ساتھ ہو لوں گا۔
فلاں فلاں چیز کی منظوری مشکل نہیں لیکن بات حساب کی ہے۔
حکومت وقت کی ذمے داری ہے لیکن کوئی ’’حکومت‘‘ہوتوتب نا۔ یہاں توگینگ وار ہے۔
ذرا سوچو؟۔ اور ہم سوچتے رہ گئے کہ لوگ کس کس چیز کے لیے کیسی کیسی دلیلیں پیدا کر لیتے ہیں۔
ہمارے ایک دوست کابھی پشاور کے ایک ایسے سینہہ سے واسطہ پڑاتھا جو ایک زمانے میں ’’قرض کی مے‘‘ سے بہت بڑا سیٹھ بناتھا۔
سرکار بابا کے شہزادے ہوتے ہیں۔ یا صرف یہی اس ملک کے مالک ہیں۔
دنیا کی کوئی ’’لوجی‘‘جھٹلا نہیں سکتی کہ عام آدمی شریفانہ پرسکون اور بغیر ہیجان کے ہموار زندگی جینا چاہتاہے۔