US
صفحۂ اول
تازہ ترین
پی ایس ایل 11
کھیل
فیکٹ چیک
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
رائے
ایسے حالات ہیں جب کہ عوام کی قوت ضرور کم ہونے کے باعث مہنگائی کا بوجھ غریب عوام کی زندگی اجیرن بنا چکا ہے۔
پاکستان کا شہر کراچی جو اس وقت مسائلستان بنا ہوا ہے اس شہر کو معاشی طور پر جتنا زیادہ فعال کیا جائے گا۔
مختلف برادریوں کے افراد کی اکثریت لیدر، مصنوعات کی پروڈکشن اور برآمدات کے شعبے سے منسلک ہے۔
برآمدات سے دگنی مالیت کی درآمدات کے باعث تجارتی خسارہ بتدریج بھیانک شکل اختیار کرتا چلا جا رہا ہے۔
لیدر کی مختلف اقسام کی مصنوعات تیار کرکے کھربوں روپے زرمبادلہ کمایا جاتا ہے۔
حکومت نے عوام پر 15 جولائی کی شب ایسا پٹرول بم گرایا ہے کہ یکایک پٹرول 5.40 روپے فی لیٹر مہنگا کردیا
ڈالر کی قیمت میں اضافے سے ملکی قرضوں کے بوجھ میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
انقلابی تبدیلی لائی جائے تو وہ دن دور نہیں کہ برآمدات بہت زیادہ درآمدات کم اور فوڈ گروپ کی درآمد کی ضرورت ہی نہ رہے۔
حکومت کی جانب سے سرکاری قیمت خرید 1800روپے فی من مقرر ہے جب کہ مطالبہ 2000 روپے فی من کا بھی کیا جا رہا ہے۔
نتیجہ تو یہی سامنے آ رہا ہے کہ ترقیاتی فنڈز کے اہم مقاصد ابھی تک حاصل نہ ہوئے۔