US
صفحۂ اول
تازہ ترین
کھیل
فیکٹ چیک
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
پی ایس ایل 11
رائے
میں مولانا طارق جمیل کا فین ہوں‘ دوستی کو بھی 15 سال ہو چکے ہیں‘
ہم کیوں آج بھی مسجدوں میں بیٹھ کر یورپ اور امریکا سے کورونا کی ویکسین طلوع ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔
سڑک پر سناٹے اور کورونا کے خوف کے سوا کچھ نہیں تھا اور اس کچھ نہیں میں دو سائے آہستہ آہستہ چل رہے تھے۔
ہم مانیں یا نہ مانیں لیکن یہ حقیقت ہے کورونا ایک طرف پوری دنیا کے لیے بلا بن کر ابھر رہا ہے۔
غربت‘ جہالت اور بیماری تینوں بہنیں ہیں اور یہ ہر وقت وہ گھر تلاش کرتی رہتی ہیں جہاں لوگ زیادہ اور بے کار ہوں۔
ہم سوچ رہے ہیں جو مرتا ہے اسے مرنے دیں باقی کو بچا لیں
ہماری وجہ سے کتنے لوگ پیٹ بھر کرسوئیں گے
آپ جان کر حیران ہوں گے یہ دنیا کی واحد انڈسٹری ہے جس کا را مٹیریل (گنا) ادھار ملتا ہے۔
یہ ہماری زندگی کا پہلا خوف ناک عالمی بحران ہے‘ ہمیں اس میں وہ تمام تجربات ہوئے جن سے ہماری سینئر نسلیں محروم تھیں۔
کاش ہم سب لوگ پیچ ایڈمز کی طرح سوچ سکیں‘ ہم خود کشی کے بجائے پیچ ایڈمز کی طرح معاشرے کا پیوند بن جائیں۔