ملک بھر کی طرح کراچی میں بھی یوم خواتین منایا گیا

متحدہ شعبہ خواتین کے تحت عباس ٹاؤن میں شہداکی یاد میں شمعیں روشن کی گئیں.


Staff Reporter March 09, 2013
خواتین کو مردوں کے برابرحقوق دیے جائیں،انیس ہارون، ماجدہ رضوی،سلمیٰ مراد ودیگر. فوٹو: فائل

دنیا بھر کی طرح خواتین کا عالمی دن جمعہ کو کراچی میں بھی منایا گیا،اس حوالے سے تقریبات ،مذاکرے،کانفرنس، مظاہرے اور ریلیوں کا انعقاد کیا گیا ۔

محکمہ ترقی نسواں کی جانب سے شاہراہ قائدین پر واک کی گئی ،صوبائی وزیر توقیر فاطمہ بھٹو نے کہا کہ حکومت نے خواتین کے حقوق اور ان کے تحفظ کیلیے تاریخی قانون سازی کی ہے،گلوبل فاؤنڈیشن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹرالفت کاظمی نے کہا کہ گذشتہ سال خواتین پر تشدد کے واقعات میں 32%اضافہ ہوا ۔

جیلوں میں 1,104 خواتین قید ہیں جن میں سے پنجاب میں 832، کے پی میں83، سندھ کی جیلوں میں 142اور بلوچستان کی جیلوں میں47خواتین قید ہیں،پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سول سوسائٹی کی رہنما مہناز رحمن نے کہا ہے کہ سیاسی جماعتیں انتخابی منشور کو انسانی حقوق کے تصورات اور تجاویز سے ہم آہنگ کریں، ڈس ایبلڈ ویلفیئر ایسوسی ایشن کی رہنما عظمیٰ ظہیر نے صدر زرداری سے مطالبہ کیا ہے کہ معذور خواتین کا سب سے بڑا مسئلہ بے روزگاری ہے ، انھیں روزگار دیا جائے ۔



متحدہ قومی موومنٹ کے تحت سانحہ عباس ٹاؤن کے شہداسے اظہار یکجہتی کے طور پر سانحے کے مقام پر تقریب کا اہتمام کیا گیا، تقریب سے ایم این اے کشور زہرانے خطاب کیا،سانحہ عباس ٹاؤن کے شہدا کی یاد میں شمعیں روشن کی گئیں، آرٹس کونسل میں سیمینار کا اہتمام کیا گیا ۔

سیمینار سے انیس ہارون ، جسٹس (ر) ماجدہ رضوی، عورت فاؤنڈیشن کی مہناز رحمن نے خطاب کیا،پریس کلب پر وومن ایکشن فورم ، عورت فاؤنڈیشن ،ہینڈز، ایجوکیشن فاؤنڈیشن ، ایچ آر سی پی اور دیگر سماجی تنظیموں کی رہنماؤں انیس ہارون ،ماجدہ رضوی ، مہناز رحمن ، شجاع قریشی ، شیریں اعجاز ، روبینہ بروہی ، عظمیٰ نورانی ، سلمیٰ وحیدمراد ،نذہت قدوائی اور دیگر نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو مردوں کے مساوی حقوق دیے جائیں،ہم اچھے اور برے انتہا پسندوں میں فرق کو مسترد کرتے ہیں اور ان کے ساتھ مذاکرات سے انکار کرتے ہیں ، ہمیں ایک سیکولر نظام کی ضرورت ہے۔