جیل چورنگی فلائی اوور کا باقی کام جلد شروع کردیا جائے گا

رائٹ وے کی جگہ کے حصول کیلیے فلیٹس تعمیر کردیے گئے، ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمیٰ.


Staff Reporter March 09, 2013
15 روز میں بجلی اور گیس کے میٹر لگنے کے بعد مکینوں کی منتقلی شروع ہوجائے گی۔ فوٹو: فائل

بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ایڈمنسٹریٹر سید ہاشم رضا زیدی نے کہا ہے کہ جیل چورنگی فلائی اوور کے رائٹ وے کی جگہ کے حصول کے لیے فلیٹس تعمیر کردیے گئے ہیں۔

ان فلیٹوں میں بجلی اور گیس کی فراہمی کے بعد جیل کے عملے کو ان گھروںمیں منتقل کرکے جیل چورنگی فلائی اوور کا باقی ماندہ کام شروع کردیا جائے گا، یہ بات انھوں نے جیل چورنگی فلائی اوور اور فلیٹوں کے تعمیراتی کاموں کا دورہ کرتے ہوئے کہی، ڈائریکٹر جنرل ٹیکنیکل سروسز الطاف جی میمن،پروجیکٹ ڈائریکٹر شبیہ الحسن ، انجینئر تنویر احمد اور دوسرے افسران بھی ان کے ہمراہ تھے۔

انھوں نے کہا کہ جیل چورنگی رائٹ وے تعمیر نہ ہونے کی وجہ سے یہاں ٹریفک کی روانی میں دشواری کا سامنا ہے اس لئے اس کام کو ترجیحی بنیادوں پر کیا جائے گا، انھوں نے کہا یہ کام طویل عرصے سے تعطل کا شکارتھا جس کی بڑی وجہ جیل کے عملہ کی وہ رہائشی آبادی ہے جنھیں ان نو تعمیر شدہ فلیٹوں میں منتقل کیا جانا ہے، ایڈمنسٹریٹر کراچی نے کہا کہ 175ملین روپے کی لاگت سے جیل کے عملے کے لیے اب یہ فلیٹس تعمیر ہوچکے ہیں اور اگلے 15 روز میں بجلی اور گیس کے میٹر لگنے کے بعد فلیٹس کے مکینوں کی منتقلی شروع ہوجائے گی۔



انھوں نے کہا کہ شہر اور شہریوں کے مفاد میں بلدیہ عظمیٰ نے یہ فلیٹس اپنے اخراجات سے تعمیر کیے ہیں تاکہ سینٹرل جیل سے وہ جگہ حاصل کرکے جیل چورنگی کا یہ لوپ تیار کیا جاسکے، اس موقع پرایڈمنسٹریٹر سید ہاشم رضا زیدی کو بریفنگ دیتے ہوئے پروجیکٹ ڈائریکٹر نے بتایا کہ جیل کے عملے کے ٹائپ اے میں سات سو اسکوائر فٹ کے 80فلیٹس تیا ر کیے جاچکے ہیں ٹائپ بی میں گیارہ سو اسکوائر فٹ کے 10اور ٹائپ سی پندرہ سو پچاس اسکوائر فٹ کے 6فلیٹس بنائے گئے ہیں۔

ان چھیانوے فلیٹس کے علاوہ مسلم آباد میں 13621 فٹ پر مبنی آئی جی آفس بھی تعمیر کیا گیا ہے، انھوں نے بتایا کہ گھروں کی منتقلی اور فلیٹس کی تعمیر کے سلسلے میں جیل حکام بلدیہ عظمیٰ کراچی سے مکمل تعاون کررہے ہیں اور جیل کے عملے کے گھروں کی منتقلی کا سلسلہ بلدیہ عظمیٰ کراچی اورجیل انتظامیہ کے مابین ہونیوالے معاہدے کے تحت کیا جارہا ہے۔