دہشت گردی روکنے کی کوششیں تیز کی جائیں

بلوچستان کا مسئلہ ہم صرف جمہوری اور سیاسی طریقے کو مدنظر رکھ کر حل کریں گے، وزیر دفاع نوید قمر


Editorial August 07, 2012
دھماکے سے 2 منزلہ مکان سمیت 6گھر تباہ ہو گئا، فوٹو رائٹرز

ISLAMABAD: کوئٹہ میں اتوار کو سریاب روڈ پر بادینی چوک کے قریب ایک مکان میں کار بم دھماکا سے ایک خاتون اور 2 بچوں سمیت 5 افراد جاں بحق اور 7 بچوں سمیت 11زخمی ہو گئے، دھماکے سے 2 منزلہ مکان سمیت 6گھر تباہ ہو گئے۔ پولیس کے مطابق ڈاکٹر اختر مینگل نامی ایک شخص کے مکان میں کھڑی کار میں نصب بارودی مواد پھٹنے سے دھماکا ہوا۔ بی بی سی کے مطابق ڈاکٹر اختر مینگل نے چند ماہ قبل یہ مکان کرایہ پر دیا تھا، کرایہ داروں کا تعلق بلوچستان کے علاقہ نوشکی سے بتایا گیا ہے۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کے مطابق دھماکا میں 80 کلوگرام مواد استعمال کیا گیا۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس آپریشن کوئٹہ کے مطابق مالک مکان کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

اس واقعہ کو دہشت گردوں کی جانب سے بلوچستان کے حالات خراب کرنے کی ان مذموم سرگرمیوں کا تسلسل قرار دیا جائے جو ایک عرصے سے جاری ہیں تو بے جا نہ ہو گا۔ اس دھماکے کی نوعیت سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دہشت گرد کسی اور جگہ دہشت گردی کی واردات کی تیاری کر رہے تھے کہ دھماکا خیز مواد قبل از وقت پھٹ گیا جس کی وجہ سے کم نقصان ہوا اگر تخریب کار مقررہ ہدف کو نشانہ بنانے میں کامیاب ہو جاتے تو بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کتنا زیادہ نقصان ہوتا۔ چونکہ بلوچستان میں مسلسل آگ اور خون کا کھیل جاری ہے اس لیے ضروری ہے کہ وہاں سیکیورٹی کے معاملات کو فول پروف بنایا جائے۔

لیکن افسوس کا مقام ہے کہ انتظامی سطح پر اس معاملے پر کوئی سنجیدہ توجہ نہیں دی جا رہی جس کا نتیجہ یہ ہے کہ دہشت گردی ایک کے بعد ایک اپنے منصوبوں میں کامیاب ہوتے جا رہے ہیں جب کہ آئے روز کے بم دھماکوں نے بلوچستان ہی نہیں پورے ملک کے عوام کو ایک نہایت تکلیف دہ صورتحال سے دوچار کر دیا ہے' وہ ایک عجیب نوعیت کے عدم تحفظ کا شکار ہیں' مالی مسائل اس کے علاوہ ہیں۔ صدر مملکت، وزیر اعظم پاکستان اور گورنر و وزیر اعلیٰ بلوچستان کی جانب سے اس دھماکا میں جانی نقصان کے ضیاع پر افسوس کا اظہار اور واقعے کی تحقیقات کی ہدایت کی گئی ہے چنانچہ امید کی جاتی کہ اس واقعہ کی مکمل تحقیقات کر کے ٹھوس نتائج اخذ کیے جائیں گے۔

تا کہ ان کی بنیاد پر سیکیورٹی کی صورتحال کو بہتر اور اطمینان بخش بنایا جا سکے۔ ادھر سوئی میں سیکیورٹی فورسز نے تخریب کاری کی کوشش ناکام بنا کر 60 کلوگرام وزنی بم برآمد کر لیا جسے ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔ خضدار کے علاقہ ناچ میں نامعلوم مسلح افراد نے نیٹو فورسز کے لیے سامان لے جانے والے 2 کنٹینرز نذر آتش کر دیئے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس صوبے کو باقاعدہ منصوبے کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ وزیر داخلہ رحمان ملک کے بعد اب وزیر دفاع نوید قمر نے بھی کہا ہے کہ بلوچستان میں بیرونی مداخلت کے شواہد موجود ہیں جس پر انڈیا سے بات ہو رہی ہے۔ وہ بلوچستان ہائوس کراچی میں وزیر قانون فاروق نائیک اور گورنر بلوچستان ذوالفقار مگسی کے ساتھ پریس کانفرنس کر رہے تھے۔

وزیر دفاع نوید قمر نے کہا کہ بلوچستان کے معاملے پر کیبنٹ کی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو روزانہ کی بنیاد پر اپنی رپورٹ دے گی' کابینہ ہی طے کرے گی کہ کس سے بات کرنی ہے اور کس سے نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کا مسئلہ ہم صرف جمہوری اور سیاسی طریقے کو مدنظر رکھ کر حل کریں گے اور تمام اسٹیک ہولڈرز سے بات کر کے اپنی تجاویز کابینہ کے آیندہ اجلاس میں لے جانا چاہتے ہیں جو ایک احسن لائحہ عمل ہے۔ بلوچستان کے معاملے پر بھارت سے بات چیت کا آغاز خوش آیند ہے' اس کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے معاملات پر غور کے لیے کابینہ کی کمیٹی کی تشکیل بھی ایک اچھا اقدام اور اس امر کا ثبوت ہے کہ حکومت بہرحال اب اس صوبے کے حالات میں بہتری کے لیے سوچ رہی ہے تاہم یہ کوششیں محدود نوعیت کی ہیں جب کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ بلوچستان میں جاری حالات کی تمام تر جہتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے حالات کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جائے۔

امید ہے کابینہ کمیٹی جلد اپنا کام مکمل کر لے گی جس کے بعد حکومت بلوچستان کے معاملات کے کنٹرول کے لیے کچھ ٹھوس کرنے کی پوزیشن میں ہو گی تاہم اس کمیٹی کی کاوشیں اسی وقت بارآور ثابت ہوں گی جب یہ تہیہ کر لیا جائے گا کہ اس کی پیش کردہ تجاویز کو ردی کی ٹوکری کی نذر نہیں ہونے دیا جائے گا۔ حال ہی میں وفاقی وزیر داخلہ نے انکشاف کیا کہ بلوچستان کے حالات خراب کرنے میں افغانستان کی کچھ قوتیں بھی ملوث ہیں چنانچہ ضروری ہو گیا ہے کہ بھارت کے ساتھ ساتھ افغانستان کی حکومت سے بھی اس بارے میں سنجیدگی کے ساتھ بات چیت کی جائے۔

اگرچہ افغان انتظامیہ نے وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کے اس الزام کو مسترد کر دیا ہے کہ افغان حکومت کے بعض عناصر ممکنہ طور پر اسلام آباد حکومت کے خلاف برسر پیکار فضل اﷲ کو مدد فراہم کر رہے ہیں پھر بھی اس معاملہ کو آسانی سے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹر کو دیئے گئے اپنے انٹرویو میں وزیر داخلہ کا اٹھایا گیا یہ سوال جواب طلب ہے کہ اگر کوئی کسی کے گھر میں رہ رہا ہو تو اس سے پوچھا جاتا ہے تمہیں کھانا کون دے رہا ہے اور کس نے تمہیں پناہ دی ہے؟ یہ صورتحال اور افغانستان کی سرحد سے مسلسل پاکستانی علاقوں پر حملے متقاضی ہیں کہ اس معاملے کا تہہ تک جائزہ لیا جائے تاکہ وطن عزیز کے اس اہم صوبے کے خلاف ہونے والی سازشوں کا توڑ کیا جا سکے۔