پولیو رضا کاروں پر حملے انسداد پولیو کی تشہیری مہم ختم کر دی گئی

غیر اعلانیہ ٹارگٹڈ مہم جاری ہے، یونیسیف نے بھی پولیوکے حوالے سے سوشل موبلائزیشن سرگرمیاں ختم کردیں.


Staff Reporter March 12, 2013
فوٹو: فائل

پاکستان میں دہشت گردی اورامن وامان کی غیر یقینی صورتحال نے بچوں کے مستقبل کوبھی خطرے میں ڈال دیا،رضاکاروں پرحملوں کے بعد قومی انسداد پولیومہم کی تشہیری مہم کو یکسرختم کردیاگیا۔

جس کی وجہ سے ملک میں پانچ سال تک کی عمرکے ساڑھے 3کروڑ بچوں کے مستقبل کو شدید خطرات لاحق ہو گئے، گزشتہ سال 18دسمبر کوملک میں انسدادپولیومہم کے دوران6پولیورضاکاروں کے قتل اورقاتلانہ حملوں کے بعدحکومت نے ملک بھرمیں چلائی جانے والی قومی انسدادپولیومہم کوعارضی طور پرروک دیاگیا حکومت نے امن وامان کی غیر یقینی صورتحال کے بعدانسداد پولیو مہم کی نئی حکمت عملی مرتب کی جس کے تحت پولیو رضاکاروں کے تحفظ کے لیے مختلف علاقوں میں غیر اعلانیہ ٹارگیڈ پولیومہم شروع کردی ہے۔



یہی وجہ ہے حکومت نے رواں سال میں تاحال کوئی قومی انسداد پولیومہم شروع نہیں کی گئی،دوسری جانب پاکستان میں مسلسل دہشت گردی کے واقعات کے بعد حکومت اورعالمی اداروں نے پولیوسوشل موبلائزیشن (آگاہی) کے شعبے کوبھی غیر فعال کردیاگیا اورکہا ہے کہ اب پولیومہم کی تشہیری مہم اور سوشل موبلائزیشن کی سرگرمیاں فوری بھی معطل کردیں،حکومت نے ملک بھر میں سوشل موبلائزیشن کی سرگرمیاں ختم کرنے کے باوجود جاپان کی غیر سرکاری تنظیم سے ملک سے پولیو وائرس کے خاتمے اورآگاہی مہم کے حوالے سے پاکستان حکومت اور یونیسف نے جاپان سے 26 لاکھ 20 ہزار ڈالر کامعاہدہ بھی کرلیا ۔

یہ معاہدہ پاکستان میں پولیوکے خاتمے کیلیے جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (جے آئی سی اے) اور یونیسیف پاکستان میں پولیوکے خاتمے کیلیے اس منصوبے کے تحت کام کریں گے، اس حوالے سے پاکستان میں جاپانی سفارت خانہ کے انچارج اور پاکستان میں یونیسیف کے نمائندے کے مابین دستاویزات پر دستخط بھی کئے گئے۔