40لاکھ تارکین وطن کراچی کو معاف کر دیں ایک واقعے پر تجربہ کار افسر ہٹا دیے گئے ہم حکومت کیسے چلائیں قائم
ایک دو روز میں کراچی اور حیدرآباد میں ہزاروں پلاٹ تقسیم کرینگے، 5 سالہ کارکردگی رپورٹ پیش
وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے پیر کو سندھ اسمبلی میں اپنی حکومت کی5 سالہ کارکردگی کے حوالے سے رپورٹ پیش کی ۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انھوں نے الیکشن کمیشن کی طرف سے بھرتیوں پر پابندی کے فیصلے اور سپریم کورٹ کی طرف سے پولیس افسروں کو ہٹانے اور معطل کرنے کے احکام پر سخت افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ اس طرح کے فیصلوں سے حکومت کیسے چلے گی اور امن و امان کیسے کنٹرول ہوگا؟۔ کراچی میں گزشتہ سال4 ہزار قتل ہوئے اور پنجاب میں 19ہزار قتل ہوئے لیکن ان کے بارے میں کوئی کچھ نہیں کہتا ۔
غیر ملکی اور غیر قانونی تارکین وطن ہمارے کراچی کو معاف کردیں اور اپنے ملکوں میں واپس چلے جائیں کیونکہ ان کی وجہ سے امن و امان کے بہت سارے مسائل پیدا ہوئے ہیں، سندھ میں40 لاکھ سے زائد تارکین وطن ہیں ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم نے امن و امان کی صورت حال کو بہتر بنایا ،ایک لاکھ65 ہزار نوجوانوں کو میرٹ پر براہ راست روزگار دیا اور2 لاکھ نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں تربیت دی ۔ جامعات ، کالجز اوردیگر تعلیمی ادارے قائم کیے، نئے اسپتال بنائے اور پرانے اپ گریڈ کیے۔
ترقیاتی منصوبوں پر 4 کھرب79 ارب روپے سے زیادہ خرچ کیے اور5 سال میں بے شمار کامیابیاں حاصل کیں ۔ اصل جج عوام ہیں ، وہی ہمارے بارے میں فیصلہ کریں گے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی میں دہشت گردی اور امن و امان کی صورتحال کوئی معمولی مسئلہ نہیں، یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ یہ ایک بڑے تصادم کا شاخسانہ ہے ، جو ملک کو درپیش ہے۔ اب تو ہماری اسٹیبلشمنٹ نے بھی اعتراف کرلیا ہے کہ ملک کے اندر ایک بہت بڑی جنگ ہو رہی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ کراچی میں جرائم میں23 فیصد جبکہ سندھ کے دیگر اضلاع میں30 تا40 فیصد کمی ہوئی ۔ کراچی میں بدامنی کے بہت سے عوامل ہیں، آبادی کے تناسب سے پولیس کی نفری بہت کم ہے۔ ماضی میں پولیس کو بہت نظر انداز کیا گیا لیکن ہم نے پولیس کے ادارے کو مضبوط کیا ۔ پہلے8 ہزار پولیس کانسٹیبلز بھرتی کیے ۔
اب مزید3 ہزار کانسٹیبلز بھرتی کرنا چاہتے تھے لیکن الیکشن کمیشن نے بھرتیوں پر پابندی لگادی جو انتہائی افسوس ناک ہے ۔ سپریم کورٹ حکم دیتی ہے کہ پولیس میں مزید بھرتیاں کرو، الیکشن کمیشن نہیں کرنے دیتا ۔ الیکشن شیڈول کا اعلان بھی نہیں ہوا لیکن گزشتہ اگست سے پابندی عائد کردی گئی ہے ۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ حکومت سندھ اے ایس آئی اور سب انسپکٹرز بھرتی نہیں کرسکتی ۔ اگر کسی حکومت پر قدغن عائد کردی جائے کہ وہ ایک صوبیدار کی بھرتی بھی نہ کرسکے تو وہ کیسی حکومت ہے ۔قائم علی شاہ نے کہا کہ شہری علاقوں میں بھی غریب لوگوں کو چھوٹے پلاٹ دیے جارہے ہیں۔

کراچی کے ضلع غربی اور ملیر می 20 ہزار پلاٹ ایک دو روز میں تقسیم مکردیے جائیں گے جبکہ پورے سندھ میں40 ہزار پلاٹ دیے جائیں گے۔حیدر آباد میں35 ہزار پلاٹ تیار کیے گئے ہیں اور کراچی میں 550 گوٹھوں کو ریگولرائز کیا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ اس قدر بے روزگاری ہے کہ میں اسمبلی سے اپنے آفس تک اپنا کوٹ بچاکر پہنچ جاؤں تو یہ بڑی بات ہوگی ۔ ہم نے اساتذہ کی میرٹ پر بھرتی کی تو کسی نے اعتراض نہیں کیا ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایک واقعے پر آئی جی سندھ اور ڈی آئی جی کو ہٹا دیا گیا اور ضلع کے تمام تجربہ کار افسران کو معطل کردیا گیا، ہم کیا ضلع چلائیں اور کیسے حکومت چلائیں ۔ اس پر ایوان میں موجود سینئر وزیر تعلیم پیر مظہرالحق نے آواز لگائی کہ سپریم کورٹ سے کہیں کہ وہی حکومت چلائے ۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ نہیں حکومت ہم خود چلائیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ اور ہمارے بعض دوستوں کی طرف سے یہ ریمارکس آئے تھے کہ پولیس میں سیاسی مداخلت ہوتی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے نوٹیفکیشن لہراتے ہوئے کہا کہ میں نے اس نوٹیفکیشن کے ذریعے آئی جی کو اختیارات دیے تھے کہ وہ گریڈ19 تک کے افسروں کے اپنی مرضی سے تبادلے اور تقرر کریں ۔ آئی جی کو فری ہینڈ دیا گیا تھا کہ وہ ایس ایس پیز اور ایس پیز جیسے سینئر افسران کے تبادلے اور تقرریاں وہ خود کریں اور یہ کام ہمارے دور میں ہوا ۔ انھوں نے کہا کہ سانحہ عباس ٹاؤن کے11سے12ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے جنھوں نے اعترافات بھی کیے ہیں ۔ سنگین جرائم میں ملوث700 لوگوں کے چالان عدالتوں میں ہیں ۔
ہم نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے دیے گئے وژن اور منشور کے مطابق لوگوں کی خدمت کی ۔ صدر آصف علی زرداری کی مفاہمتی پالیسی بھی پاکستان میں جمہوریت کے استحکام کے لیے ضروری بن گئی ، جس کا بنیادی فلسفہ ''جیو اور جینے دو'' تھا ۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ18 ویںآئینی ترمیم ،7واں این ایف سی ایوارڈ ، آغاز حقوق بلوچستان ، قبائلی علاقوں میں حکومت کی مضبوطی ، گلگت بلتستان کے عوام کے لیے منتخب حکومت ، خواتین کو بااختیار بنانے اور انسداد دہشت گردی کے حوالے سے قانون سازی پیپلز پارٹی کی حکومت کی بنیادی کامیابیاں ہیں ۔ سندھ حکومت نے غربت کے خاتمے کے لیے بہت بڑے پروگرام کامیابی سے مکمل کیے۔وسیلہ حق پروگرام کے تحت سندھ کے35 ہزار نوجوانوں کو فی کسی3 لاکھ روپے بلا سود قرضے دیے جارہے ہیں جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت8 لاکھ خواتین کو ماہانہ بنیاد پر مالی امداد دی جا رہی ہے ۔ قائم علی شاہ نے کہا کہ ہمارا ایک اور بڑا کام سیلاب اور بارشوں سے متاثرہ افراد کی امداد اور بحالی ہے۔