کراچی کے30واٹرپارکوںکےپانی کے نمونے حاصل کرلیے گئے

ان واٹر پارکوں کے سوئمنگ پول میں نگلیریا کے جراثیم نہیں، ای ڈی او ہیلتھ


Staff Reporter August 07, 2012
ان واٹر پارکوں کے سوئمنگ پول میں نگلیریا کا جرثومہ نہیں، ای ڈی او ہیلتھ (فوٹو اے ایف پی)

ای دی اوہیلتھ کراچی نے کراچی میں نگلیریاکی ممکنہ وبا سے نمٹنے اوراس مرض کے اصل اسباب جاننے کیلیے سوئمنگ پول اورواٹرپارکوں میں قائم30سے زائد سوئمنگ پولزکے پانی کے نمونے حاصل کرلیے۔ تین واٹرپارکوںکی انتظامیہ نے سوئمنگ پول کے نمونے حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جس میں شبہ کیاجارہا ہے کہ ان سوئمنگ پولز میں پانی میںکلورین کی مطلوبہ مقدارموجود نہیں تاہم ای ڈی او ہیلتھ کراچی ڈاکٹر امداداللہ صدیقی نے ایڈمنسٹریٹرکراچی محمد حسین سیدکومطلع کردیا ہے۔

واضح رہے کہ کراچی میں نگلیریا بیکٹریا کی موجودگی کے انکشاف کے بعدوزیر صحت ڈاکٹر صغیراحمد نے ای ڈی او کراچی کوکمیٹی قائم کرنے اور واٹرپارکوں ، سوئمنگ پولز کے پانی میں کلورین کی مطلوبہ مقدارچیک کرنے کی ہدایت کی تھی ،

کمیٹی میں شامل ڈسٹرکٹ آفیسرڈاکٹر عبدالجبار شیخ، ڈاکٹر امان اللہ، ڈاکٹر عبدالوحید بھٹی سمیت دیگر افسران نے کراچی اورہائی ویزکے اطراف قائم واٹرپارکوں، سوئمنگ پولزکے دورے کیے اوران سوئمنگ پول میں پانی میں کلورین کی مقدار چیک کرنے کیلیے نمونے حاصل کیے جس کی رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ ان سوئمنگ پول میں نگلیریا کا جراثیم نہیں تاہم کمیٹی کے ماہرین نے تمام سوئمنگ پولز اور واٹرپارکوںکی انتظامیہ کو متنبہ کیا ہے کہ پانی میں مطلوبہ مقدار میں کلورین شامل کی جائے بصورت دیگر کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔