سیف سٹی پروجیکٹ معاشی ترقی کیلیے سنگ میل ثابت ہوگاگورنرسندھ

جزیرے کوڈیفنس سے ملانے کیلیے پل کاسنگ بنیاد آئندہ چند روزمیں رکھاجائیگا، بریفنگ.


Staff Reporter March 13, 2013
جزیرے کوڈیفنس سے ملانے کیلیے پل کاسنگ بنیاد آئندہ چند روزمیں رکھاجائیگا، بریفنگ. فوٹو فائل

بحریہ ٹاؤن کے تعاون سے سیف سٹی پروجیکٹ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا پروجیکٹ ہوگا اور معاشی ترقی کیلیے سنگ میل ثابت ہوگا ۔

یہ پروجیکٹ پاکستان کے ثقافتی ورثہ کو اجاگر کرنے کا موقع فراہم کریگا ۔ اس کی فلک بوس عمارتیں پاکستان کا جدید تشخص پیدا کرنے میں مدد دیں گی جبکہ اس کا محل وقوع پاکستانی ثقافت اورورثے کی آئینہ دار ہوگا۔ یہ بات گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے گورنرہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں کہی۔ گورنرسندھ نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ شہرمیں سیکیورٹی کے نظام کومربوط اور منظم کیا جائے تاکہ خطے کے لوگ اس شہرکی استعداد کا فائدہ اٹھا سکیں۔



اجلاس میں پورٹ اینڈ شپنگ کے سابق وفاقی وزیر بابرخان غوری ، امریکا سے آئے ہوئے سرمایہ کارتھامس کیمراور مسٹر رونالڈ نے شرکت کی جبکہ بحریہ ٹاؤن کی نمائندگی حامد الیاس اور احمد حیات نے کی ۔ اس موقع پر بحریہ ٹاؤن کی جانب سے گورنر کو منصوبے کی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا ۔ گورنر کو بتایا گیا کہ سولہ ہزار ایکڑ پر مشتمل رقبے پر سیف سٹی منصوبہ قائم کیا جا رہا ہے اسے بیس ہزارایکڑ رقبے پرفروغ دیا جائے گا۔

اس موقع پر گورنر سندھ نے کہا کہ اس جزیرے کے ساتھ ساتھ ملحقہ جزائر کو بھی ترقی دی جائیگی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ جزیرے کو ڈیفنس سے ملانے کے لیے کم وبیش دوکلومیٹر طویل برج کی تعمیرکا سنگ بنیاد آئندہ چند روز میں رکھ دیا جائے گا۔گورنر سندھ نے کہا کہ صدرآصف زرداری اس پروجیکٹ کے فوری آغاز اور کم سے کم وقت میں تکمیل کے حوالے سے گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔