5 افراد کا قتل ملوث ملزم کے مقدمے میں گواہ کا بیان قلمبند

ملزم میرے پاس ڈرائیورتھا،سامان پولیس کو دیدیا،گواہ،بیانات میں تضاد ہے، وکیل صفائی


Staff Reporter March 14, 2013
فاضل عدالت نے سماعت 16مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کو گواہی کیلیے طلب کرلیا ہے۔ فوٹو: فائل

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی اکرام الرحمن نے ایک ہی خاندان کے پانچ افراد کے قتل میں ملوث ملزم محمد اسحاق کے مقدمے میں گواہ کا بیان قلمبند کرلیا۔

وکیل صفائی محمد جیوانی نے گواہ کے بیان پر جرح مکمل کرلی ہے، فاضل عدالت نے سماعت 16مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کو گواہی کیلیے طلب کرلیا ہے، بدھ کو گواہ غلام مصطفی نے اپنے بیان میں عدالت کو بتایا کہ وہ غازی ایمبولینس کا مالک ہے اور ملزم ا س کا ڈرائیور تھا ، 29 فروری 2012 کو ملزم نے اسے زیورات اور چند موبائل فون دیے تھے ۔

6 مارچ کو تمام سامان پولیس کے حوالے کردیا تھا ،گواہ نے ملزم کو شناخت بھی کیا تھا ، وکیل صفائی کے مطابق جرح کے دوران دونوں بیانات میں تضاد پایا گیا ہے جس پر فاضل عدالت نے نوٹس جاری کیے اور جوڈیشل مجسٹریٹ کو بیان کیلیے طلب کیا ہے۔



دریں اثنا ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شرقی منٹھار علی جتوئی نے مسافر کوچ لوٹنے اور مزاحمت پر کنڈیکٹر کو قتل کرنے کے الزام میں ملوث محمد انور ، عمر ، جمیل اور ہارون کے مقدمے میں تفتیشی افسر سب انسپکٹر جاوید احمد کا بیان قلمبند کرلیا اور جرح بھی مکمل کرلی ہے ، گواہ نے بتایا کہ ملزمان کو تھانہ کے آئی اے نے اسلحہ ایکٹ کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

دوران تفتیش محمد انور نے اعتراف جرم کیا اور دیگر ملزمان نے اس کی تا ئید کی تھی جس پر ملزمان کو تھانے میں ہی گرفتار کرلیا تھا اور اگلے روز جائے وقوع کا معائنہ کیا تھا ، ملزمان پر الزام ہے کہ انھوں نے 4 اگست 2010 کوکورنگی کراسنگ کے علاقے میں الیاس کوچ میں داخل ہوکر مسافروں اور ڈرائیور سے نقدی لوٹ لی تھی، کنڈیکٹر قیصرکے مزاحمت کرنے پر اسے گولی مار کر ہلاک کردیا تھا ۔