ہیروشیما پر ایٹمی حملے کی یاد میں تقریب ہزاروں افراد کی شرکت

ایٹمی حملے کا حکم دینے والے امریکی صدر کے پوتے اور50ہزار افراد شریک تھے


AFP August 07, 2012
ہیروشیما:جاپان پر امریکی ایٹمی حملے کی یاد میں قائم عمارت کے سامنے ہلاک ہونیوالے ہزاروں افراد کی یاد میں دریا میں کاغذ کی شمعیں روشن کی گئی ہیں (فوٹو ایکسپریس)

جاپان کے شہر ہیروشیما پر امریکی ایٹمی بمباری سے ہونیوالی تباہی کی یاد منائی گئی۔ پیرکو لاکھوں افراد نے ایٹمی بمباری کی برسی کے موقع پر ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر اس عظیم سانحے میں مرنے والے افراد کے لیے دعا کی اور خاموشی اختیار کی۔70برس قبل امریکی حملے میں مرنے والے جاپانیوں کے رشتے داروں، بچ جانے والے افراد، حکومتی عہدیداروں اور غیر ملکی وفود نے ہیروشمیا میموریل پارک میں منعقدہ سالانہ تقریب میں شرکت کی۔

اس موقع پر اقوام متحدہ کی نمائندہ انجیلا کین نے کہا کہ آج کے دن اس شہر میں تباہی آئی تھی اور مجھے یہ عہد کرنے دیں کہ آئندہ کوئی ایٹمی حملہ نہیں ہونا چاہیے۔ سیکریٹری جنرل بان کی مون کی طرف سے پیغام پڑھتے ہوئے انھوں نے کہاکہ ایسے مہلک ہتھیاروں کی اب اس دنیا میں کوئی جگہ نہیں اور ان کی تلفی انسانیت کے تحفظ کیلیے ضروری ہوچکی ہے۔ 6اگست 1945ء کو بی۔29 بمبار امریکی طیارے نے گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق صبح سوا آٹھ بجے ہیروشیما پر ایٹم بم گرایا تھا

جس میں ایک لاکھ 40ہزار افراد مارے گئے تھے۔ ٹھیک اسی وقت پیر کو ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ سرکاری طور پر منعقعدہ اس تقریب میں 50ہزار افراد نے شرکت کی جب کہ ہزاروں افراد نے مظاہروں، تقریبات، ریلیوں، فورسز میں شرکت کرکے جوہری ہتھیاروں کی مذمت کی اور جوہری ہتھیار تلف کرنے کا مطالبہ کیا۔ تقریب میں شریک کرنے والوں میں ایٹمی ممالک فرانس اور امریکا کے سفیر بھی شامل تھے۔

ہیروشیما پر ایٹم بم گرانے کا حکم دینے والے سابق امریکی صدر ہیری ٹرومین کے پوتے 55سالہ ٹرومین ڈینیل نے بھی سرکاری تقریب میں شرکت کی۔ واضح رہے کہ جنگ عظیم دوئم ایٹمی حملوں کے فوری بعد جاپان کی طرف سے ہتھیار ڈالنے کے اعلان پر ختم کردی گئی تھی۔ ایک اور مظاہرے کے دوران شرکا نے ایٹمی توانائی کے فوجی و غیر فوجی دونوں استعمال کی مخالفت کی اور حوالہ دیا کہ سونامی طوفان کے دوران کئی ہزار لوگ ایٹمی پاور پلانٹس کے باعث مارے گئے تھے۔