اولڈ مظفرآباد کالونی میں دھماکے کا مقدمہ درج ایک زخمی کی حالت نازک

24 گھنٹے گزر جانے کے باوجود کوئی اعلیٰ حکومتی شخصیت جائے وقوع پر نہیں پہنچ سکی، علاقہ مکین انتظارہی کرتے رہ گئے.


Staff Reporter March 16, 2013
2سے ڈھائی کلو گرام دھماکا خیز مواد، بال بیرنگ، نٹ بولڈ اور لوہے کے ٹکڑے بھی استعمال کیے گئے، ذرائع بم ڈسپوزل یونٹ فوٹو فائل

ISLAMABAD: لانڈھی اولڈ مظفر آباد کالونیA ایریا گلی نمبر ایک ایم ایس کیبل آپریٹر کی دکان نمبر A/53 کے باہر بم دھماکے کا مقدمہ ایکسپلوزیو ایکٹ اور دہشت گردی کی ایکٹ کے تحت دھماکے میں جاں بحق ہونے والے برطرف پولیس اہلکار سید طاہر شاہ کے بھائی پولیس ہیڈ کانسٹیبل جمال شاہ کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف قائد آباد تھانے میں درج کر لیا گیا۔

ادھر بم ڈسپوزل یونٹ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکے میں2سے ڈھائی کلو گرام دھماکا خیز مواد، بال بیرنگ، نٹ بولڈ اور لوہے کے ٹکڑے استعمال کیے گئے جبکہ دھماکا ریمورٹ کنٹرول ڈیوائس سے کیا گیا ہے، علاوہ ازیں ڈی ایس پی قائد آباد افتخار لودھی نے بتایا کہ واقعے کے بارے میں معلومات رکھنے والا کوئی عینی شاہد نہیں ملا ،متعدد افراد سے بیان لینے کی کوشش کی۔



دھماکے میں وزیر محمد ، سید طاہر شاہ اور نیاز محمد جاں بحق جبکہ بخت اکبر ولد دلبر خان ، رحمت علی شاہ ولد عجب خان اور فضل رحیم ولد گلفروش زخمی ہوئے تھے، انھوں نے بتایا کہ زخمی ہونے والے فضل رحیم کی حالت تشویشناک ہے ، دھماکے کے نتیجے میں 3 موٹر سائیکلیں اور ایک رکشا تباہ ہوا تھا ، علاقہ مکینوں نے بتایا کہ واقعہ کو24 گھنٹے گزر جانے کے باوجود کوئی اعلیٰ حکومتی شخصیت جائے وقوع پر نہیں پہنچی ۔

علاقہ مکینوں نے بتایا کہ رینجرز ہیڈ کوارٹر جائے وقوع سے چند فرلانگ کے فاصلے پر ہونے کے باوجود دوسرے دھماکے کے خوف کی وجہ سے ایک گھنٹے بعد رینجرز جبکہ ڈیڑھ گھنٹے بعد پولیس جائے وقوع پر پہنچی ، چھیپا اور ایدھی کی ایمبولینسیں دھماکے کے چند منٹوں بعد پہنچ گئیں تھیں، اور رضا کاروں نے زخمیوں اور جاں بحق ہونے والوں کو اسپتالوں میں منتقل کیا۔