لاہور کی مٹی مضرِ صحت کیڑے مار ادویہ سے آلودہ

جامعہ قائدِ اعظم کے ماہرین نے لاہور سمیت اطراف کے علاقوں کی مٹی میں مضر آرگینوفاسفیٹ کا انکشاف کیا ہے۔


ویب ڈیسک December 21, 2017
لاہور کے مضافات میں درجنوں مقامات سے مٹی کے نمونے جمع کرکے جب ان کا تجزیہ کیا گیا تو ان میں کیڑے مار دواؤں کی غیرمعمولی مقدار دیکھی گئی۔ فوٹو: بشکریہ قائدِ اعظم یونیورسٹی

پاکستانی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ لاہور سمیت پاکستان کے تمام بڑے شہروں کی مٹی کیڑے مار ادویہ اور دیگر مضرِ صحت کیمیکل سے بھرپور ہے اور وہاں رہنے والے لوگوں کی صحت کےلیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

ماہرین نے کہا ہے کہ لاہور کے اطراف موجود زرعی علاقوں اور وہاں قائم حشرات کش ادویہ (پیسٹی سائیڈز) بنانے والے کارخانوں سے ہونے والا اخراج لاہور کی مٹی میں مل رہا ہے۔ اس طرح لاہور کے کئی علاقوں کی آلودگی ہر عمر کے افراد کی صحت کےلیےخطرہ ہے۔

قائدِ اعظم یونیورسٹی اور برطانیہ میں لنکاسٹر یونیورسٹی نے یہ مشترکہ تحقیق کی ہے جس میں مختلف علاقوں سے مٹی کے 50 نمونے لیے گئے۔ اس کے علاوہ 20 سے 55 سال کے 500 افراد کے خون اور پیشاب کے نمونوں کی جانچ کی گئی۔ ان لوگوں کا تعلق مختلف گروہوں سے تھا جن میں کسان، دکاندار، فیکٹری ملازم، شہری اور دیہاتی شامل تھے۔ ان کا موازنہ دوسرے کنٹرول گروپ سے کیا گیا۔ نتیجے سے معلوم ہوا کہ لاہور کے اطراف کی مٹی کے قریب رہنے والے تمام گروپ کے لوگ یکساں طور پر آلودگی کے خطرے سے دوچار ہیں۔

مٹی کی آلودگی

آلودہ مٹی میں سب سے زیادہ جو کیمیکل ملے وہ کلوروپائریفوس اور ڈائزینن جیسی دواؤں کے تھے جن کے گھریلو استعمال پر پہلے ہی امریکہ اور دیگر ممالک میں پابندی عائد ہوچکی ہے۔ دوسری خوفناک بات یہ ہے شہری اور دیہی، دونوں طرح کے لوگوں کے پیشاب میں کلوروپائریفوس اور ڈائزینن سے وابستہ بایومارکر بلند مقدار میں موجود تھے۔ اس کے علاوہ مٹی میں موجود ادویاتی آلودگی سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہوسکتی ہے اور یہاں تک کہ جلد میں بھی جذب ہوکر مسائل کی وجہ بن سکتی ہے۔

دوسری جانب خون کے نمونوں کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ تمام افراد آکسیڈیٹیو اسٹریس کے شکار ہیں۔ اسے یوں سمجھیے کہ جسم کے اندر اینٹی آکسیڈنٹس دفاعی نظام اور فری ریڈیکلز بننے کے عمل کے درمیان جب فرق بڑھتا ہے تو اسے آکسیڈیٹو اسٹریس کہتے ہیں جس کے بہت سے مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں جن میں کینسر سے لے کر کئی امراض تک شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جو آلودگی سے زیادہ قریب تھے ان میں اعصابی نظام کےلیے ضروری ایک انزائم کی کمی بھی نوٹ کی گئی۔

اس تحقیق کے نتائج سے واضح ہے کہ حشرات کش ادویہ سے اٹی ہوئی مٹی اعصابی اور اینڈوکرائن نظام کو متاثر کرتی ہے جو ہمارے کھانے، پینے، سونے، جنسی عمل اور دیگر اہم معاملات کو کنٹرول کرتے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ نہ صرف براہِ راست سامنے رہنے والے افراد اس سے متاثر ہورہے ہیں بلکہ قریب رہنے والے لوگ بھی اس آلودگی سے کئی خطرات میں گھرے ہیں۔

لنکاسٹر ماحولیاتی مرکز کے ماہر ڈاکٹر کرسپن ہلسل کہتے ہیں: 'شہری اور دیہی افراد کے پیشاب میں پائی جانے والی بلند مقدار سے ظاہر ہوتا ہے کہ کھیتوں اور صنعتی علاقوں سے پھیلنے والی مٹی دور دراز رہائشی افراد تک پہنچ رہی ہے۔' اس کے علاوہ پیسٹی سائیڈز کھانے پینے کی اشیاء میں بھی شامل ہورہے ہیں۔

اس تحقیق کی شریک مصنف ڈاکٹر رفعت نسیم ملک کے بقول، 'کلوروپائریفوس اور ڈائزینن جیسی ادویہ کا بے دریغ استعمال صحت کےلیے انتہائی خطرناک ہے جو فوری توجہ چاہتا ہے۔ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے جس کے انسان اور ماحول پر اثرات کا جائزہ لینا ہوگا، اس سے قبل کہ کہیں ہمیں دیر نہ ہوجائے۔'

واضح رہے کہ پاکستان فصلوں اور کھیتوں میں کیڑے مار دوائیں استعمال کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔ یہ تحقیق 'جرنل فار اینوائرونمنٹل ٹوکسی کولوجی اینڈ فارماکولوجی' میں شائع ہوئی ہے۔