اسپتال میں قانونی پیچیدگیوں کے باعث کئی زخمی ہلاک ہو جاتے ہیں
آغا خان اسپتال میں ایمرجنسی میڈیسن کانفرنس سے ماہرین طب کا اظہار خیال
LONDON:
ماہرین طب نے کہاکہ پاکستان میں پیدا ہونے والا ہر 10 میں سے ایک بچہ اپنی زندگی کے پانچ سال مکمل نہیں کر پاتا۔
جبکہ اسپتال میں قانونی پیچیدگیوں کے باعث کئی زخمی جاں بحق ہوجا تے ہیں، اسپتالوں میں ہنگامی طبی امداد اور دیکھ بھال کے حوالے سے ضروری قانون سازی کرکے کئی زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں، ان خیالات کا اظہار انھوں نے آغا خان یونیورسٹی میں منعقدکی جانے والی تیسری سالانہ ایمرجنسی میڈیسن کانفرنس میں کیا، ماہرین نے کہا کہ پیڈیاٹرک ایمرجنسی میڈیسن بے حد اہمیت کا حامل خصوصی شعبہ ہے،امراض اطفال اور ایمر جنسی میڈیسن کے ماہرین متعلقہ خصوصی تربیت مکمل کرنے کے بعد مزید تربیت حاصل کرتے ہیں۔
ایمرجنسی میڈیسن بر وقت علاج مہیا کرنے میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور اسے ایک علیحدہ خصوصی شعبے کے طور پر تسلیم کیے جانے کی ضرورت ہے، ریاض، سعودی عرب میں واقع کنگ فیصل اسپیشلسٹ ہاسپٹل اینڈ ریسرچ سینٹرکے انٹر نیشنل ایمرجنسی میڈیسن پروگرام کے چیئرمین ڈاکٹر ندیم قریشی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کسی بھی حادثے کے بعد متاثرہ مریض کو پہلے گھنٹے میں ہنگامی اور درست طبی امدادفراہم کرکے انسان کی جان بچائی جا سکتی ہے، اس حوالے سے پہلا گھنٹہ انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے ایسی صورت حال میں تربیت یافتہ ایمر جنسی ہیلتھ کئیر عملے کی مدد سے ہلاکت اور معذوری کی شرح میں خاطر خواہ کمی واقع ہو سکتی ہے لیکن سرکاری سطح پرشعبہ حادثات کی ایمرجنسی کی اہمیت کونظراندازکیا جارہا ہے۔
پاکستان میں بچوں کی دیکھ بھال کے ماہرین دوران ملازمت ہنگامی صورت حال میں بچوںکے علاج اور دیکھ بھال کی تربیت حاصل کررہے ہیں تاہم اس شعبے میں باقاعدہ تربیت کے بغیر ہنگامی صورت حال میں بچوں کی دیکھ بھال کے ماہرین تیار کرنا ممکن نہیں ، ماہرین نے اس موقعے پر فوری قانون سازی کی ضرورت پر زور دیا ،اے کے یوکے ڈیپارٹمنٹ آف ایمرجنسی میڈیسن کے بانی سربراہ ڈاکٹر جنید رزاق نے خصوصی مہارت اور اہمیت کے حامل شعبے کے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بچے اب بھی نمونیا اور ہیضے جیسی بیماریوں سے ہلاک ہو رہے ہیں، تاہم ہمیں نئی بیماریوںکے علاوہ سڑک پر ہونے والے حادثات، سمندر میں ڈوبنے اورگھروں پر لگنے والی چوٹوں جیسے مسائل کا بھی سامنا ہے۔
باقاعدہ تربیت اور صلاحیت کے حامل ماہرین جلد تشخیص اور بر وقت بحالی کے ذریعے بچوں میں معذوری اورہلاکت کی شرح میں خاطر خواہ کمی لا سکتے ہیں، ڈاکٹر ندیم قریشی نے اس شعبے کی حیثیت کو فی الفور تسلیم کیے جانے کی اہمیت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا، دنیا بھر میں بچوںکی ہلاکت کے 7 فیصد واقعات پاکستان میں پیش آتے ہیں،پاکستان کی 50 فیصد آبادی 20 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے جس کی وجہ سے یہاں ہنگامی صورت حال میں بچوںکی دیکھ بھال کے شعبے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، انھوں نے مزید کہا کہ اس حوالے سے ترقی یافتہ ممالک ہم سے کہیں آگے ہیں جبکہ پاکستان میں اس حوالے سے کام ابھی صرف شروع ہوا ہے۔