حقوق زوجیت ادا نہ کرنے پر بیوی نان و نفقہ کی حقدار نہیں سپریم کورٹ

میاں بیوی کو جبری اکٹھا رکھنے کا تجربہ اچھا نہیں اس سے زیادہ گھمبیر مسائل پیدا ہوتے ہیں، سپریم کورٹ


ویب ڈیسک December 29, 2017
حقوق زوجیت ادا کرنے کی صورت میں ہی بیوی نان و نفقہ کی حقدار ہے، سپریم کورٹ فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ حقوق زوجیت ادا کرنے کی صورت میں ہی بیوی نان و نفقہ کی حقدار ہے۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں فیصل آباد کی رہائشی خاتون عنبرین اکرم کی درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ شوہر نے نکاح کے دو سال بعد طلاق دے دی تاہم نکاح کے بعد رخصتی نہیں ہوئی تھی، عدالت عنبرین کے شوہر سے نکاح سے طلاق کے عرصے تک کا خرچہ دلوائے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اگر نکاح کے بعد لڑکی کی رخصتی ہی نہیں ہوئی تو وہ خرچے کا دعوی کیسے کر سکتی ہے، حقوق زوجیت ادا کرنے کی صورت میں ہی بیوی نان و نفقہ کی حقدار ہے، رخصتی نہ ہونے پر بیوی نان نفقہ کی حقدار نہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ رخصتی نہ ہونے پرعدالت کس قانون کے تحت میاں بیوی کو اکٹھا رہنے پر مجبور کرسکتی ہے، میاں بیوی کو جبری اکٹھا رکھنے کا تجربہ اچھا نہیں اس سے زیادہ گھمبیر مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ عدالت نے عنبرین اکرم کی درخواستِ نان نفقہ خارج کردی۔