جعلی بھرتی سے انکار محکمہ تعلیم کے افسر پر مسلح افراد کا تشدد

دفترکاکمرہ بند کرکے شدید تشدد کیاگیا،ممتاز شیخ لہولہان،آنکھ کی بینائی متاثر،عملے نے اسپتال پہنچایا.


Staff Reporter March 20, 2013
ڈی او ممتاز شیخ کا رقم کے عوض جاری بھرتی آرڈرز پر تعیناتیاں دینے سے انکار ،سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے مسلح افراد کی تشدد کے بعد دفتر میں توڑ پھوڑ. فوٹو: فائل

کراچی میں جعلی بھرتیوں سے انکارپرسرکاری افسران کی پٹائی کاسلسلہ جاری ہے۔

وزیر بلدیات سندھ آغا سراج درانی اوران کے گارڈز کی جانب سیکریٹری لوکل گورنمنٹ بورڈکی پٹائی کے بعد اب محکمہ تعلیم کے افسر ڈی اوممتاز شیخ کوبھی بدترین تشددکانشانہ بنایاگیاہے، ڈائریکٹراسکولز کراچی کی جانب سے رقم کے عوض جاری کیے گئے بھرتیوں کے آرڈرز پر تعیناتی سے انکار کرنے پر منگل کو مسلح افراد نے فیڈرل بی ایریا کریم آباد میں قائم محکمہ تعلیم کے دفتر میں گھس کر ڈی او اسکول پر قاتلانہ حملہ کرکے انھیں بدترین تشدد کانشانہ بناکرلہولہان کردیا۔

انھیں چہرے ، سراورآنکھوں پرشدیدچوٹیں آئیں جس کے سبب وہ غش کھاکرگرگئے ممتاز شیخ کی بائیں آنکھ کی بینائی بھی متاثرہوگئی ہے اوروہ بائیں آنکھ سے کچھ دیکھنے سے قاصرہوگئے ہیں انھیں ان کے دفترکے عملے نے فیڈرل بی ایریاکے ایک نجی اسپتال پہنچایا جہاں انھیں ابتدائی طبی امداددی گئی۔

جبکہ ان پرتشدد کرنے والے افراد اپنی گاڑی میں بیٹھ کرباآسانی روانہ ہوگئے ملزمان کا تعلق لیاری اور اولڈ سٹی ایریا سے تھا جو ڈائریکٹراسکولز کراچی کی جانب سے بھرتیوں کے خطوط پرممتاز شیخ سے پوسٹنگ آرڈرجاری کرنے پراصرارکررہے تھے اورڈی اوممتاز شیخ کی جانب سے انکار کے بعد مسلح افراد نے ان کے دفترکاکمرہ بند کرکے انھیں شدید زردوکوب کیا دفتر کا سامان پھینک دیا۔



فرنیچر توڑدیااور بعدازاں جائے واردات سے چلے گئے ''ایکسپریس''نے جب ڈی اوممتاز شیخ سے رابطہ کیاتوان کاکہناتھاکہ ان کی بائیں آنکھ کی بینائی شدید متاثرہوئی ہے اور ڈاکٹر نے انھیں آرام کامشورہ دیاہے۔

انھوں نے بتایاکہ متعلقہ تمام افراد جواپنا تعلق ایک سیاسی جماعت سے بتارہے تھے انھیں پوسٹنگ آرڈر دینے پر اصرارکررہے تھے تاہم جب ان سے کہاگیاکہ بھرتیوں پرپابندی ہے ان افرادنے مجھے سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں اوریکایک مجھ پرتشددشروع کردیاجس کے بعد مجھ پرغشی طاری ہوگئی، واضح رہے کہ حال میں ڈائریکٹراسکولز کراچی کے عہدے پرتعینات کیے گئے افسرقاسم بلوچ کی جانب سے روزانہ کی بنیادوں پرمحکمہ تعلیم میں رقم لے کر تقررنامے جاری کرنے کاسلسلہ جاری ہے ۔

محکمہ تعلیم سندھ اس امرسے واقف ہونے کے بعدصرف یہ کہہ کرکارروائی نہیں کررہا کہ ہم حکومت جانے کا انتظارکررہے ہیں اس کے بعدہی کچھ کریں گے جبکہ اسی اثنا میں محکمہ تعلیم کے افسران اورعملے پرتشددکیایہ دوسراواقعہ رونما ہوا ہے جس میں انھیں بدترین تشددکا نشانہ بنایاگیا ہے اس سے قبل بولٹن مارکیٹ میں قائم محکمہ تعلیم کے دفترکے عملے کوبھی اسی معاملے پرتشددکا نشانہ بنایا گیا تھا۔

اس حوالے سے محکمہ تعلیم کے ایک اعلیٰ افسرسے جب ''ایکسپریس''نے رابطہ کیاتوان کاکہناتھاکہ ڈائریکٹراسکولز کراچی کوہم نہیںوزیراعلی ہی ہٹاسکتے ہیں جولوگ جعلی آرڈرحاصل کررہے ہیں انھیں یہ بھی معلوم ہوناچاہیے کہ اسامیاں نہیں ہیں یہ کہاں پوسٹ ہونگے اورانھیں تنخواہ کون دے گا۔