ڈاکٹر اسد عثمان کے قتل کی وجوہات بھتہ نہیں کچھ اور ہیں

6ماہ قبل بھتے کے لیے فون آیا تھا، اس کے بعد کوئی کال موصول نہیں ہوئی


Staff Reporter March 21, 2013
عبا سی اسپتال کے اسٹاف ممبران ڈاکٹراسدعثمان کے قتل کیخلاف احتجاجی مظاہرے کے دوران نعرے لگارہے ہیں۔ فوٹو : ایکسپریس

کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج فیکلٹی کے سینئر رکن اور اسسٹنٹ پرو فیسر ڈاکٹر اسد عثمان کے اہلخانہ نے بھتہ نہ دینے پر ڈاکٹر اسد عثمان کو قتل کرنے کا امکان مسترد کردیا۔

تفصیلات کے مطابق منگل کی دوپہر ناظم آباد نمبر7 کے سگنل کے قریب نامعلوم مسلح ملزمان کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر اسد عثمان ولد محمد عثمان کے اہلخانہ نے ایکسپریس کوبتایا کہ ڈاکٹر اسد عثمان کو6ماہ قبل بھتہ دینے کیلیے موبائل فونز پر نامعلوم نمبر سے کالز آئی تھیں۔

جس کے خلاف ڈاکٹر اسد نے شاہراہ نور جہاں تھانے، اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ میں قائم انسداد بھتہ سیل اور سی پی ایل سی میں باقاعدہ تحریری درخواست جمع کرادی تھی جس کے بعد انھیں ایک سیکیورٹی گارڈ فراہم کردیا گیا تھا۔



انھوں نے بتایا کہ بھتہ خوروں کی جانب سے2لاکھ روپے طلب کیے گیے تھے تاہم اس واقعے کو بھی6ماہ گزر چکے تھے اور6 ماہ سے انھیں نہ تو بھتہ دینے کی کالز آ رہی تھیں اور نہ ہی کسی قسم کی کوئی دھمکی آمیز کالز آئی تھیں۔

انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر اسد کو کوئی بھی پریشانی ہوا کرتی تھی تو گھر میں اپنے بھائی خالد عثمان سے ضرور مشورہ کیا کرتے تھے اور ڈاکٹر اسد نے حالیہ دنوں کوئی ایسی بات نہیں بتائی تھی جس سے اندازہ ہو سکے کہ انہیں کسی قسم کوئی پریشانی لاحق تھی، انھوں نے اس بات کا امکان ظاہر کیا کہ ڈاکٹر اسد عثمان کو بھتہ نہ دینے پر نہیں قتل کیا گیا ۔

بلکہ ان کے قتل کی وجوہات کچھ اور ہیں، انھوں نے بتایا کہ ڈاکٹر اسد کے ہمراہ جاں بحق ہونے والا پولیس گارڈ3ماہ سے ان کے ساتھ تھا جبکہ جاں بحق ہونے والے گارڈ سے قبل ایک گارڈ ڈیڑھ ماہ اور ایک گارڈ تقریباً ایک ماہ ان کی سیکیورٹی پر معمور رہا تھا، انھوں نے بتایا کہ ڈاکٹر اسد دو مختلف نجی اسپتالوں ریمیڈ یئل اور الخدمت استعمال میں بھی OPDکلینک کیا کرتے تھے۔