شاہ زیب قتل کیس میں مزید ایک گواہ کا بیان قلمبند

مشترکہ دوست کو فون کیا تو اس نے بتایا تھا کہ شارخ جتوئی اور اس کے ساتھیوں نے شاہ زیب کو گولیاں مار دیں، گواہ


Staff Reporter March 22, 2013
گواہ عبداﷲ سہیل نے اپنے بیان میں عدالت کو بتایا کہ وہ مرحوم شاہ زیب کا دوست تھا اور وقوعے کے روز اس نے اپنے موبائل فون سے شاہ زیب کو فون کیا تھا. فوٹو: فائل

TUNIS: انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج غلام مصطفی میمن نے شاہ زیب قتل کیس میں ایک گواہ کا بیان قلمبند کرلیا۔

فاضل عدالت نے سماعت آج (جمعہ تک) ملتوی کردی، تفصیلات کے مطابق جمعرات کوملزمان شارہ رخ جتوئی، سراج تالپور، سجاد تالپور اور غلام مرتضیٰ لاشاری کو جیل حکام کی جانب سے فاضل عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

سماعت کے موقع پر گواہ عبداﷲ سہیل نے اپنے بیان میں عدالت کو بتایا کہ وہ مرحوم شاہ زیب کا دوست تھا اور وقوعے کے روز اس نے اپنے موبائل فون سے شاہ زیب کو فون کیا تھا لیکن اس کا موبائل فون بند جارہا تھا اور کوئی جواب موصول نہیں ہورہا تھا جس پر اس نے اپنے مشترکہ دوست کو فون کیا تو اس نے بتایا تھا کہ شارخ جتوئی اور اس کے ساتھیوں نے شاہ زیب کو گولیاں مار دیں۔



اسے شدید زخمی حالت میں اسپتال لے گئے ہیں، فوری طور پر اسپتال پہنچا تو وہ ہلاک ہوچکا تھا، اس کے ہلاک ہونے سے علاقے میں بڑا خوف و ہراس تھا، گواہ نے بتایا کہ وہ اتنا خوفزدہ ہوگیا تھا کہ اس کے والدین نے اسے مغرب کے بعد گھر سے نکلنے سے منع کردیا تھا، گواہ کے اس بیان پر وکلائے صفائی نے جرح مکمل کرلی، فاضل عدالت نے جرح مکمل ہونے پر سماعت آج (جمعہ) تک ملتوی کردی ہے۔