موسم گرما کا آغاز شہر میں آلودہ پانی سے ڈائریا پھیل گیا

ڈائریا سے بچاؤکیلیے پانی کو ابال کر استعمال کیاجائے، ماہرین طب


Staff Reporter March 22, 2013
آلودہ پانی سے ٹائیفائیڈکا مرض اور بچوں کے گردے متاثر ہونے کا خطرہ بھی لاحق ہوتا ہے. فوٹو: رائٹرز/فائل

موسم گرما کے شروع ہوتے ہی ڈائریاکا مرض بے قابو ہونے لگا،درجنوں بچے نجی وسرکاری اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

ڈائریا کی وبا پینے کے آلودہ پانی اور آلودہ پانی سے تیارکی جانے والی برف سے ہوتا ہے،آلودہ پانی سے ٹائیفائیڈکا مرض اور بچوں کے گردے متاثر ہونے کا خطرہ بھی لاحق ہوتا ہے،تفصیلات کے مطابق موسم گرما کی ابتدا میں ہی بچوں کو ڈائریا ہونا شروع ہوگیا ہے۔

سول اسپتال کے ڈائریا یونٹ میں 14بچے، قومی ادارہ اطفال برائے صحت میں13 بچے، چلڈرن اسپتال ناگن چورنگی میں ایک درجن سے زائد ڈائریا میں مبتلا بچے علاج کے لیے لائے گئے ان میں سے بیشتر کواسپتال میں داخل کرلیا گیا ہے جبکہ نجی اسپتالوں میں بھی درجنوں بچے ڈائریا کے مرض میں یومیہ لائے جارہے ہیں ، ماہرین کے مطابق گرمیاں شروع ہوتے ہی ڈائریا کا مرض شدت اختیارکرتا ہے اس مرض سے بچاؤکیلیے گھر میں پانی کواچھی طرح ابال کر استعمال کیاجائے،آلودہ پانی سے ہیضہ، ٹائیفائیڈ، ہیپاٹائٹس اے اور ای کا مرض جنم بھی لے رہا ہے۔



مسلسل ڈائریا سے بچوں کے جسم کی نمکیات ضائع ہوجاتی ہے جس سے بچے مزید کمزور ہوجاتے ہیں جبکہ شدید ڈائریا کی صورت میں گردے متاثر ہوجاتے ہیں، کراچی میں دن کے اوقات میں گرم موسم میں باسی کھانا کھانے، آلودہ پانی پینے سے ڈائریا کا مرض لاحق ہورہا ہے،قومی ادارہ امراض طفال برائے صحت کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر جمال رضا نے بتایا کہ گرمیوں میں ڈائریاشدت اختیار کرتا ہے۔

مسلسل ڈائریا سے بچوں کے گردے متاثر ہونے کا احتمال رہتا ہے، گرمی میں بچوںکو پانی ابال کر پلایا جائے اور ٹھیلوں پر فروخت ہونے والی کھانے پینے کی اشیا،گولے گنڈے، آئس کینڈی وغیرہ سے اجتناب برتا جائے، واضح رہے کہ یونیسیف نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ پاکستان میں 5 سال سے کم عمرکے بچوں کی شرح اموات میں اضافہ ہورہا ہے۔