مصباح نے ’’مسٹر ٹک ٹک‘‘ کا لبادہ اتار پھینکا

کپتان کو وکٹیں چھوڑ کر جارحانہ اسٹروکس کھیلتے دیکھ کر ماہرین وشائقین حیران۔


Sports Desk March 23, 2013
ٹیم ولوگوں کی ڈیمانڈ پر تبدیلی لایا، مثبت انداز سے بیٹنگ کررہا ہوں، اسٹار بیٹسمین۔ فوٹو: فائل

مصباح الحق نے ''مسٹر ٹک ٹک'' کا لبادہ اُتار پھینکا اوریکدم نئے روپ میں سامنے آگئے۔

جنوبی افریقہ کیخلاف چوتھے ون ڈے میں 39 سالہ کپتان کو وکٹیں چھوڑ کر جارحانہ اسٹروکس کھیلتے دیکھ کرنہ صرف ماہرین بلکہ شائقین بھی حیران رہ گئے، ایک موقع پر ان کا اسکور 53 گیندوں پر 36 تھا کہ یکایک کولن انگرام زیر عتاب آ گئے، وکٹیں چھوڑ کر لانگ آن پر چھکا رسید کیا، پھر اگلی گیند کو مڈ وکٹ باؤنڈری کی راہ دکھا دی، انھوں نے اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ اس کے بعد والی بال کو بھی روم بنا کر کھیلتے ہوئے لانگ آن باؤنڈری کے باہر بیٹھے شائقین کے پاس پہنچا دیا، یوں ان کی نصف سنچری مکمل ہو گئی۔

پاکستانی کرکٹ کے لیے کافی خدمات انجام دینے کے باوجود مصباح الحق اپنے سست انداز بیٹنگ کی وجہ سے شائقین میں مقبولیت حاصل نہیں کر سکے، لہذا اب وہ اپنا امیج تبدیل کرنے کے لیے کوشاں ہیں، جمعرات کو میچ کے بعد پریس کانفرنس میں اس حوالے سے مصباح الحق نے کہا کہ میری ہمیشہ یہی کوشش ہوتی ہے کہ ٹیم کی ضرورت کے مطابق کھیلوں، 2007 میں جب میری ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں واپسی ہوئی تو اس وقت میں جارحانہ شاٹس کھیل رہا تھا، درمیان میں اپنے کھیل کا انداز تبدیل کر کے سنبھل کر کھیلنے لگا، اب جب میں نے دیکھا کہ ٹیم اور لوگوں کی ڈیمانڈ ہے کہ مجھے جارحانہ انداز اپنانا چاہیے تو پھر تبدیلی لے آیا۔

1

حالیہ دورے میں میری یہی کوشش ہے کہ آؤٹ ہونے کا نہ سوچوں اور مثبت انداز سے بیٹنگ کرتے ہوئے اپنے اسٹروکس کھیلتے رہوں۔ یاد رہے کہ مصباح الحق اب تک 113 میچز میں 3255 رنز بنانے کے باوجود سنچری سے محروم ہیں، یہ بھی اپنی طرز کا ایک منفرد ریکارڈ ہے، ڈربن میں ایسا محسوس ہوا کہ وہ پہلی بار یہ کارنامہ انجام دے دیں گے مگر 80 رنز پر فرحان بہردیان کے عمدہ کیچ پر میدان چھوڑنا پڑا، اب وہ اتوار کو بینونی میں پانچویں ون ڈے کے دوران سنچری بنانے کیلیے پرُاعتماد ہیں،موجودہ فارم دیکھتے ہوئے ایسا ہو بھی سکتا ہے۔