بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والا ذہنی مریض ہوسکتا ہے ماہر نفسیات

عموماًقریبی لوگ،جاننے والے یارشتے داراس طرح کے کام کرتے ہیں، طلبہ کوتربیت دی جائے، ڈاکٹر جاوید اکبر درس


Staff Reporter January 20, 2018
ملک کی آدھی آبادی18سال سے کم عمرافراد پر مشتمل اورتربیت کافقدان ہے،ڈاکٹر جاوید۔ فوٹو : فائل

ماہر امراض نفسیات ڈاکٹر جاوید اکبر درس نے کہا ہے کہ بچی کے ساتھ زیادتی اور قتل جیسا کام کرنے والا ذہنی مریض ہو سکتا ہے ۔

جناح اسپتال کے اسسٹنٹ پروفیسر اور ماہر امراض نفسیات ڈاکٹر جاوید اکبر درس نے کہا ہے کہ کوئی عام ذہن کا آدمی کمسن بچی کے ساتھ زیادتی اور قتل جیسا کام نہیں کر سکتا ایسا کرنے والے کے ذہن میں مسائل ہیں اور اسے ایسے کام کرنے سے لذت ملتی ہے عموماً وہ لوگ بھی ایسا کام کرتے ہیں جن کے ساتھ خود ایسا کچھ ہوا ہو اور وہ بیمار ذہنیت کے حامل ہوتے ہیں۔

سانحہ قصور پرگفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر جاوید اکبر کا کہنا تھا کہ ایک واقعے کی بنیاد پر کسی کو نفسیاتی مریض نہیں قرار دیا جاسکتا اس کے لیے مجرم کا معائنہ ضروری ہے ان کا کہنا تھا کہ ہماری آدھی آبادی 18سال سے کم عمر ہے اور ہمارے ہاں تربیت کا فقدان ہے بچوں کو بتایا نہیں جاتا کہ کون سا چھونا مناسب اور کون سا غیر مناسب ہے جبکہ معاشرے کے افراد بھی ایسے واقعات کی ابتدا دیکھ کر کہہ دیتے ہیں کہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے یہ بھی بیمار ذہنیت ہے کہ غلط کام کو نہ روکا جائے۔

ماہر امراض نفسیات نے بتایا کہ تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ عموماً قریب کے لوگ، جاننے والے یا رشتہ دار اس طرح کے کام کرتے ہیں کیونکہ ان کے پاس رسائی ہوتی ہے اور بچے ان کے پاس جاتے بھی ہیں انھوں نے بتایا کہ بچے ایسے واقعات پر ڈر اور خوف کا شکار ہو جاتے ہیں اور بتا نہیں پاتے جبکہ اکثر وبیشتر بچوں کو علم ہی نہیں ہوتا کہ جو کام ان سے کروایا جارہا ہے وہ دراصل غلط ہے جب کہ اسکولوں میں تربیت دی جانی اور چھوٹے بچوں کو نارمل و غیر نارمل چیزوں کی آگاہی دینی چاہیے۔