اسلام کے عادلانہ نظام کے قیام کیلیے جدو جہد کی جائےمحنتی

لادینی عناصر دو قومی نظریے کوفرسودہ کہتے ہیں،مسلمان کی شناخت جداگانہ ہے.


Staff Reporter March 24, 2013
لادینی عناصر دو قومی نظریے کوفرسودہ کہتے ہیں،مسلمان کی شناخت جداگانہ ہے. فوٹو : این این آئی

جماعت اسلامی کراچی کے امیر محمد حسین محنتی نے کہا ہے کہ 23 مارچ تجدید عہد کا دن ہے، آج ضرورت اس بات کی ہے کہ قرارداد مقاصد کو اجاگر کیا جائے۔

ملک میں اسلام کے عادلانہ اور منصفانہ نظام کے قیام کی عملی جدوجہد کی جائے جس کیلیے لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر پاکستان حاصل کیا تھا، ان خیالات کا اظہار انھوں نے جماعت اسلامی کے تحت چاندنی چوک بلدیہ میں23 مارچ کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، محمد حسین محنتی نے کہا کہ آج سے 73 سال قبل منظور ہونے والی قرارداد پاکستان مملکت خداداد کے قیام کیلیے سنگ میل ثابت ہوئی اور دنیا کے نقشے میں پاکستان کے نام سے ایک آزاد اور خود مختار ملک وجود میں آیا۔



پاکستان کے قیام کا واحد مقصد یہاں اسلام کے نظام کو قائم کرنا تھا، قیام پاکستان کی تحریک محض قطعہ اراضی کے حصول کی تحریک نہیں تھی، یہ تحریک ایک نظریے کے تحت وجود میں آئی تھی اور وہ نظریہ دو قومی نظریہ تھا جس کے تحت ہندو اور مسلمان اپنی جداگانہ تہذیب و شناخت رکھتے تھے، مگر بدقسمتی سے نصف صدی گزرنے کے بعد چند لادینی عناصر دو قومی نظریے کو ایک فرسودہ نظریہ قرار دے کر یہ باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں کہ پاکستان بطور سیکولر اسٹیٹ کے قائم کیا گیا تھا، یہ فکر پاکستان کے قیام کیلیے اپنی جانوں کی قربانی دینے والوں کے خون سے غداری کے مترادف ہے۔

انھوں نے کہاکہ 65 سال گزرنے کے باوجود پاکستان میں اسلامی نظام کے قیام کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا، ہر طرف افراتفری، بے یقینی اور قتل وغارت گری ہے، غربت، مہنگائی اور بے روزگاری اپنے عروج پر ہے، ملک اور قوم مسائل کے گرداب میں ہے، اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے رب سے جو وعدے کیے تھے وہ پورے نہیں کیے جس کے نتیجے میں ہم پر ذلت رسوائی اور بے سکونی مسلط ہے، انھوں نے کہاکہ ملکی سلامتی استحکام اور مسائل سے نجات کیلیے ضروری ہے کہ ہم قیام پاکستان کے حقیقی مقاصد کو بروئے کار لائیں اور ایک اسلامی اور خوشحال پاکستان کیلیے عملی جدوجہد کریں۔