امن و امان کیلئے سابق حکومت نے اقدامات نہیں کیے نگراں وزیر اعلیٰ سندھ

الٰہ دین کاچراغ نہیں کہ امن قائم کردوں،الیکشن کےلیےہرصورت پرامن ماحول فراہم کرینگے،مزارقائداعظم پرحاضری کے بعد گفتگو.


Staff Reporter March 24, 2013
زکوٰۃ شفاف طریقے سے تقسیم ہوتی ہے،روٹری کلب کی کانفرنس سے خطاب،ہمیں قائد اعظم کے ویژن پر ملک کو ترقی دینی ہے،گورنر سندھ فوٹو: فائل

ISLAMABAD: نگراں وزیراعلیٰ سندھ زاہد قربان علوی نے کہا ہے کہ میرے پاس کوئی الٰہ دین کا چراغ نہیں کہ میں چراغ گھماؤں اور دو دن میں کراچی میں امن قائم ہوجائے۔

کراچی میں امن و امان کے لیے سابقہ حکومت کی جانب سے5 سال میں کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے،کراچی کو دوبارہ پر امن شہر بنایا جائے گا اور الیکشن کے انعقاد کے لیے ہر صورت پر امن ماحول فراہم کیا جائے گا،ان خیالات کا اظہار انھوں نے یوم پاکستان کے موقع پر مزار قائد اعظم پر حاضری کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا،اس موقع پر گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان بھی ان کے ہمراہ موجود تھے،نگراں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی میں امن قائم کرنے کیلیے قانون نافذ کرنیوالے ادارے بھرپور اقدامات کر رہے ہیں۔

نگراں وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی میں امن و امان کے قیام کے لیے جامع اقدامات کیے جائیں گے،قائداعظم کے قول و فلسفے کو اپنا کر ہی ہم ارض پاک کی بہتر انداز میں خدمت کرسکتے ہیں،اس موقع پر گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا کہ آج کے دن (یوم پاکستان) پر جو قرار داد پیش کی گئی تھی اس پر عمل کر کے ہم پاکستان کو مستحکم کرسکتے ہیں اور اپنے اتحاد سے ان قوتوں کو شکست دے سکتے ہیں،آج ہمیں قائد اعظم کے ویژن کے مطابق ملک کو ترقی دینی ہے اور ان قوتوں کو شکست دینی ہے جو ہمیں لڑوانا چاہتی ہیں۔



پاکستان میں جمہوریت کے پانچ سال مکمل ہوئے اس کا سہرا حکومت اور اپوزیشن دونوں کو جاتا ہے ،گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا کہ ملک میں صاف و شفاف انتخابات کیلیے اقدامات کیے جا رہے ہیں امید ہے کہ آئندہ انتخابات پرامن ماحول میں ہوں گے،دوسری جانب نگراں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ انہوں نے عام آدمی کے لیے وزیراعلیٰ ہاؤس کے دروازے کھول دیے ہیں،سندھ زکوٰۃ کونسل کا سالانہ بجٹ 90 کروڑ روپے ہے جو 56 ہزار مستحقین میں پابندی اور شفاف طریقے سے تقسیم کیے جاتے ہیں۔

صوبے میں ہزاروں ایکڑ زمین کی الاٹمنٹ منسوخ کرائی اور بعد میں مارکیٹ ریٹس کے حساب سے رقم کی وصولیابی ملنے کے بعد ہی زمین کی الاٹمنٹ کی گئی،الاٹیز سے14ارب کی وصولی کی تھی جو کہ حکومت سندھ کو جمع کرائی گئی ہے، کئی اہم انکوائری کمشنز کے سربراہ کی حیثیت سے انھوں نے کئی اہم فیصلے کیے اور حکومت کو اپنی سفارشات سے آگاہ کیا ،ان خیالات کا اظہار انھوں نے ہفتہ کو روٹری انٹرنیشنل کلب کے تحت مقامی ہوٹل میں انٹرنیشنل ڈسیشن 2013 بین الاقوامی ڈسڑکٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

نگراں وزیراعلیٰ سندھ نے روٹری انٹرنیشنل کے اقدامات کو سراہا،اور کہا کہ اندرون سندھ آج بھی صحت، تعلیم پینے کے صاف پانی اور سماجی برائیوں جیسے مسائل موجود ہیں،معاشر ے کو زندگی کی ان دشواریوں کا بغور جائزہ لینا ہو گا کہ بجلی کے بغیر رات اور پینے کے صاف پانی کے بغیر زندگی کیسے گزرتی ہے،زاہد قربان علوی نے کہا کہ روٹری ہمیشہ صف اول میں رہی ہے ،اس سے قبل تقریب سے خطاب میں اقبال قریشی، جلال الدین شیخ، فیض قدوائی، اور سابق ڈسٹرکٹ گورنر روٹری عزیز میمن نے روٹری انٹرنیشنل کے پاکستان میں کردار پر روشنی ڈالی۔

عزیز میمن نے تقریب کو بتایا کہ روٹری انٹرنیشنل پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے کوششیں کر رہی ہے اور اس کے علاوہ پانی کے نلکوں کی فراہمی، مفت آنکھوں کے کیمپس کا انعقاد ، اسکولز کے ساتھ تعاون، اوپن ہارٹ سرجری کے کیمپ اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے بھی جدوجہد جاری۔