سپریم کورٹ کے حکم پر ارشد پپو کے قتل کا دوسرامقدمہ درج

بیوہ کی مدعیت میں کالعدم پیپلز امن کمیٹی کے سربراہ عزیر بلوچ سمیت10 افراد نامزد


Staff Reporter March 24, 2013
فوٹو : پی پی آئی / فائل

کالعدم پیپلز امن کمیٹی کے سربراہ عزیر بلوچ اور فرینڈز آف لیاری کے رہنما سمیت10 افراد کے خلاف لیاری گینگ وار کے ارشد پپو اور ان کے بھائی سمیت3افراد کے قتل کا مقدمہ کلاکوٹ تھانے میں درج کر لیا گیا ۔

مقدمہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری کے حکم پر کلا کوٹ تھانے میں ارشد پپو کی اہلیہ کی مدعیت میں درج کیا گیا ، ارشد پپو کا بیٹا اپنے والد اور تایا سمیت تینوں افراد کے اغوا کا عینی شاہد ہے، مقدمے میں فرینڈ آف لیاری کے رہنما کو نامزد نہیں کیا پولیس نے اس کا نام غلط فہمی میں لکھا ہے یہ بات مقدمے کے مدعی نے ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے بتائی۔



کلاکوٹ پولیس نے کالعدم پیپلز امن کمیٹی کے سربراہ عزیر بلوچ اس کے بھائی زبیر بلوچ ، نور محمد عرف بابا لاڈلا اس کے بھائی زاہد لاڈلا ، آصف کانا ، فیصل پٹھان ، یاسر پٹھان ، ڈاکر ڈا ڈا ، شاہجہاں بلوچ اور حبیب جان کے خلاف اسماء زوجہ ارشد پپو کی مدعیت میں ایف آئی آر نمبر23/2013 بجرم دفعہ297 ، 109 ، 302 ، 365 ، 393/34 اوردہشت گردی ایکٹ 7ATAکے تحت جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب تقریباً 3بجے درج کر لیا۔

مدعی اسماء نے مقدمے میں بتایا کہ اس کے شوہر ارشد پپو اس کا بیٹا صبیص بلوچ ، جیٹھ محمد یاسر عرفات اور ان کے ساتھی جمعہ شیر عرف شیرا پٹھان16مارچ کو رات تقریباً 9 بجے دعوت میں ڈیفنس گئے تھے جہاں سے انھیں ملزمان نے اغوا کر کے بہیمانہ طریقے سے قتل کرنے کے بعد ان کے اعضا کے ٹکڑے کر کے جلانے کے بعد گٹر میں بہا دیا، ارشد پپو کی اہلیہ اسما نے ایکسپریس کو بتایا کہ ان کا بیٹا صبیص اقرا اسکول میں چوتھی جماعت کا طالب علم ہے واقعے والے روز وہ اپنے والد ارشد پپو کے ساتھ گیا تھا۔

صبیص نے انھیں بتایا کہ وہ لوگ گھر میں اکیلے تھے کہ اس دوران مذکورہ ملزمان سمیت20سے زائد مسلح افراد گھر میں داخل ہوئے جس پر ارشد پپو نے اپنے بیٹے کو باتھ روم میں بھیج دیا ، صبیص نے دروازے سے جھانک کر دیکھا کہ اس کے والد ارشد پپو نے ملزمان سے ہاتھا پائی کی تاہم وہ اسے اور دیگر دونوں افراد کو اسلحے کے زور پر زبردستی اپنے ساتھ لے گئے جس کے بعد صبیص رکشا کر کے اپنے گھر واقع محکمہ موسمیات شیر محمد گوٹھ آگیا اور والدہ کو ارشد پپو کے اغوا کا واقعہ بتایا۔

انھوں نے بتایا کہ لیاری ٹاؤن یونین کونسل نمبر11کے سابق ناظم شاہجہاں بلوچ اور حبیب حسن کی ایما پر اس کے شوہر ارشد پپو ، جیٹھ محمد یاسر عرفات اور جمعہ شیر کو مذکورہ ملزمان نے قتل کیا ہے، مقدمے میںانھوں نے حبیب حسن کا نام درج کرایا تھا تاہم پولیس نے غلط فہمی میں حبیب جان کا نام درج کیا ہے۔

واضح رہے ارشد پپو کے پہلی ایف آئی آر نمبر21/2013 کلاکوٹ تھانے میں سرکاری مدعیت میں درج کی گئی تھی۔ ارشد پپو کے قتل کی ایف آئی آر کی تفتیش انویسٹی گیشن انچارج انسپکٹر عابد انصاری کریں گے جبکہ مقدمے کی تفتیشی رپورٹ10 دن کے اندر سپریم کورٹ میں پیش کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے واضح رہے مقدمے میں نامزد9 ملزمان اشتہاری ہیں جس میں سے حبیب جان بیرون ملک ہے جبکہ ملزم شاہجہاں بلوچ جیل میں ہے ۔