ہمیں خواتین کی میڈیا میں حوصلہ افزائی کرنی ہوگیعافیہ سلام

صنفی امتیاز سماجی رویہ ہے اور تدارک بھی سماجی رویوں سے ہوگا،توصیف احمد.


Staff Reporter March 25, 2013
ابلاغ عامہ کی ورکشاپ میں طلبا نے مختلف موضوعات پر اپنی تفصیلات پیش کیں۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل

KARACHI: وفاقی جامعہ اردو کے شعبہ ابلاغ عامہ اور غیر سرکاری تنظیم عکس کے زیر اہتمام خواتین کی ذرائع ابلاغ میں شمولیت کے موضوع پر دوروزہ ورکشاپ منعقدکئی گئی۔

ورکشاپ سے سینئر صحافی عافیہ سلام، رئیس کلیہ فنون پروفیسر ڈاکٹر سیمی نغمانہ طاہر، صدر شعبہ ڈاکٹر توصیف احمد خان ،پروفیسر سلیم مغل، ڈاکٹر مسرورخانم، آزادی فتح اور ہما نثار نے خطاب کیا،ورکشاپ میں جامعہ کے اساتذہ اور طلبہ و طالبات نے بھرپور شرکت کی،اور طلبا نے مختلف موضوعات پر اپنی تفصیلات پیش کیں،اس موقع پر رئیس کلیہ فنون ڈاکٹر سیمی نغمانہ نے اپنے خطاب میں مخلوط تعلیمی نظام کو پروفیشنلزم کے فروغ کیلیے لازمی قراردیا۔

انھوں نے کہا کہ خواتین کی صحافت کے عملی میدان میںشرکت بہت ضروری ہے اور اس کے فروغ کیلیے ادارہ کے ساتھ ساتھ والدین کو بھی اپنا کردار اداکرنا چاہیے تاکہ خواتین کو عملی میدان میں درپیش مسائل پرقابو پایا جاسکے،سینئر صحافی اور این جی او ٹرینر عافیہ سلام نے کہا کہ خواتین کی میڈیا میں شرکت کو یقینی بنانے کیلیے ان کی ہر سطح پر حوصلہ افزائی کرنی ہوگی اور اس کیلیے تمام اداروں کو اپنا کردار اداکرنا ہوگا، انھوں نے ابلاغ عامہ کے اساتذہ کے سامنے سوال رکھا کہ اگر طالبات اپنی مرضی سے اس مضمون کا انتخاب کرتی ہیں تو پھر وہ عملی صحافت میں کیوں نظر نہیں آتیں۔

6

انھوں نے مزید کہا کہ ہمارے معاشرے میں ایک فرسودہ تصور موجود ہے کہ میڈیا ایک بری جگہ ہے اور اس طرح کے مفروضات پر بنا جانچ پڑتال کے یقین کرلیا جاتا ہے،اس طرح کے غلط تاثرات کو صرف ذرائع ابلاغ کے ذریعے ہی بہتر بنایا جاسکتاہے،خاص طور پر اسکرین کے ذریعے عام شکوک و شبہات کو دور کیا جاسکتا ہے،ڈاکٹر توصیف احمد خان نے کہا کہ مائنڈ سیٹ سے صنفی امتیاز ایک سماجی رویہ ہے اور اس کا تدارک بھی سماجی رویوں کے ذریعے کیا جاسکتا ہے،ابلاغ عامہ کے شعبہ جات میں نصاب میں زیادہ سے زیادہ عملی مضامین شامل کیے جائیں تاکہ طلبہ و طالبات وقت کی ضرورت کے ساتھ تیار ہوسکیں۔

پروفیسرسلیم مغل نے ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے موضوع کی اہمیت پرزور دیا اور مختلف مثالوں سے طالبات کو صنفی امتیاز کے تناظر میں درپیش مسائل پر بات کی،آزادی فتح نے ورکشاپ کے موضوع پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ صنفی امتیاز صر ف پاکستا ن کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ پوری دنیا میں صنف کی بنیاد پر رویوں کا تعین کیا جاتاہے اور ملازمت میں دی جانے والی مراعات ، تنخواہ اور ترقی سے لے کر عملی میدان کے انتخاب تک یہ رویے اثر انداز ہوتے ہیں،تعلیم اور شعور کے فروغ سے ہی ان مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے۔