توجہ ہرعورت کو اچھی لگتی ہے

مدیحی عدن  اتوار 18 فروری 2018
عورت اپنی ذات کو محور بنا کے اپنے اردگرد کے کرداروں سے توجہ چاہ رہی ہوتی ہے۔
فوٹو: انٹرنیٹ

عورت اپنی ذات کو محور بنا کے اپنے اردگرد کے کرداروں سے توجہ چاہ رہی ہوتی ہے۔ فوٹو: انٹرنیٹ

ڈرامے کے ڈائلاگ ’’توجہ ہر عورت کو اچھی لگتی ہے‘‘ میں مجھے بہت حد تک حقیقت نظر آئی، بحثیت عورت میں نے بھی اپنے اندر اس چیز کو کئی بار محسوس کیا۔ عورت کو ہمیشہ سے توجہ کا مرکز بننا اچھا لگتا ہے، یہ عورت کی فطری کمزوری سمجھ لیں یا اس کے نفس کا لالچ، لیکن وہ ہر چھوٹے سے چھوٹے عمل میں بھی داد وصول کرنا چاہتی ہے اور حوصلہ افزائی کی منتظر رہتی ہے۔ اس چھوٹی سی تمنا کی تکمیل کےلیے طرح طرح کے جتن کرتی نظر آتی ہے۔ کبھی من پسند کھانے بنا کر تو کبھی خوبصورت لباس زیب تن کرکے، تو کبھی اپنی دماغی صلاحیتوں کو اجاگر کرکے۔ ہر صورت میں وہ اپنی ذات کو محور بنا کے اپنے اردگرد کے کرداروں سے بس توجہ ہی تو چاہ رہی ہوتی ہے۔

لیکن عورت اس توجہ کے معاملے میں ہمیشہ سے بڑی جلدباز واقع ہوئی ہے۔ اس کو حوصلہ افزائی اور داد کی وصولی فوراً چاہیے ہوتی ہے۔ اور چاہیے بھی تصدیق شدہ، شائشتہ الفاط کی ادائیگی کی صورت میں۔ جبھی یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ سوشل میڈیا پہ عورتیں اپنی تصاویر مردوں کے مقابلے میں زیادہ پوسٹ کرتی ہیں، جہاں انہیں اپنی چھوٹی سی ’’سیلفی کاوش‘‘ کا صلہ چند سکینڈز میں لائیکس اور حوصلہ افزاہ کمنٹس کی صورت میں مل جاتا ہے، اور یہی اس کے ذہنی اعصاب کو سکون بخشتا ہے۔

عورت کےلیے عصرِحاضر کے تقاضوں میں اچھی گفتگو، پختہ سوچ، بھلی شکل و صورت، عمدہ لباس اور کیرئیر اورینٹڈ ہونا بھی ضروری سمجھا جاتا ہے۔ جیسے جیسے انسان ماڈرن ازم کی طرف آیا، عورتوں کی خوبیوں اور صلاحیتوں کے معیار بھی بدلتے چلےگئے۔ اب روٹی چولہا، سلیقے سے گھر داریا اور بچے پال لینا کوئی خاص معیار نہیں رہا۔ میڈ، کلینر، کُک، خانساماں کی صورت میں ہر کام کا متبادل وجود میں آچکا ہے۔ یہ ہماری ماؤں کا زمانہ تھا جب دن بھر روٹی چولہا کرکے ایک داد کی منتظر ہوتی تھیں کہ آج کھانے میں نمک بالکل برابر تھا۔

آج کی عورت کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کےلیے خاصے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور اکثر عورتیں یہ کام صرف توجہ کے حصول کےلیے نہیں کر رہی ہوتیں، بلکہ وہ اپنی تمام تر کوشش اور جدوجہد کے بعد داد کی وصولی کی منتظر ضرور ہوتیں ہیں اوراپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پہ توجہ کا مرکز بن جاتی ہیں۔

لیکن کچھ عورتوں کےلیے یہ توجہ لاحاصل تمنا بن جاتی ہے۔ پھر اس تمنا کو پا لینے کےلیے وہ اپنے اندر کچھ ایسا تلاش کرتی ہے، جو فوراً سب کی توجہ کا مرکز بن جائے۔ اس ضمن میں وہ عورت اپنے اندر کئی صلاحتیں ڈھونڈ نکالتی ہے۔ فطری، ذہنی، جسمانی اور جذباتی۔ ایسی عورتوں کی جلد باز فطرت بغیر ذہنی و دماغی محنت کے کچھ شارٹ کٹ راستے تلاش کرتی ہے۔ اور ایسے میں اس کے پاس اپنی سب سے قیمتی شے اس کا جسم ایسا محور ہوتا ہے جس کی وہ سرِعام نیلامی کرتی ہے۔

اس ضمن میں خاص کر مغرب کی عورت کا ایک سرسری سا جائزہ لیا جائے تو اُس معاشرے میں اب کوئی ایسی چیز نہیں رہی جو مرد کے مقابلے میں عورت نہ کرسکے۔ مرد و عورت کی کام کرنے کی صلاحتیں تقریباً ایک جیسی ہو چکی ہیں، سوائے جنسی خدوخال کے کوئی خاص فرق نہیں رہا۔ ایسے میں عورت اسی فرق کو زیادہ نمایاں کرنے کے درپے ہے جو اسے مردوں سے مختلف بناتا ہے۔ تبھی آج مغرب کی عورت لباس کو مختصر سے مختصر کرکے توجہ کا مرکز بنتی نظر آتی ہے۔

،مرد عورت کے جسم کی وجہ ہی سے تو اس کی طرف سب سے زیادہ راغب ہوتے ہیں۔ مرد کی فطرت ہے کہ وہ عورت کو اس کے ظاہری حسن کی وجہ سے پسند کرتا ہے دوسرے الفاظ میں مرد کی جنسی خواہش عورت کے ظاہری خدو حال اور جسمانی خوبصورتی دیکھ کر ہی جاگتی ہے۔ بے شک ہر مرد کا معیار اور اس کی فطرت الگ ہوتی ہے، لیکن بنیادی وجہ یہی ہوتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال کِم کردیشان ہے، جس نے اپنے علم یا دماغی صلاحیت سے اپنا آپ نہیں منوایا بلکہ اپنے جسمانی خدوخال کو مختلف سانچوں میں ڈھال کے وہ آئے روز مختلف اخبار و میگزین کے سرِورق کی زینت بنی رہتی ہے۔

یہ مغربی معاشرے کے وہ ڈارک شیڈز ہیں جسے آزاد معاشرے کا نام دے کر، جس میں عورت کسی قید کے بغیر آزاد زندگی بسر کر رہی ہے، کی تقلید کی طرف ہمیں مائل کیا جاتا ہے۔ جب معاشرے کے اصول فطرت سے ہٹ کے انسان کے ایجاد کردہ معیار پہ رکھ دیا جائے تو فراق کے کئی راستے ڈھونڈے جاتے ہیں۔ حرص، بھڑاس، خود غرضی اور مفاد پرستی کے حصول کی کشمکش نے مغربی معاشرے کا سارا توازن ہی بگاڑ کے رکھ دیا ہے۔ ایک توجہ حاصل کرنے کا حریص بن کے رہ گیا تو دوسرا جنسی خواہشات کا بے لگام گھوڑا بنے ہر وقت ہانپتا پھرتا ہے۔ دونوں بغیر نکیل کے نام نہاد آزاد معاشرے میں کیسی آزادانہ زندگی گزار رہے ہیں۔ خواہشات و خیالات پہ مبنی آزاد زندگی۔ بغیر کسی قیدو بند کے دو آزاد جنس اپنے اپنے مفاد کے حصول میں گامزن۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

مدیحی عدن

مدیحی عدن

مدیحی عدن ایک سوچ کا نام ہے جو ایک خاص زاویئے سے دیکھی گئی تصویر کے دوسرے رُخ کی عکاسی کرتی ہے۔ معاشرتی صورت حال کے پیش نظر انہیں مایوسیاں پھلانے سے سخت الرجی ہے۔ وہ سمجھتی ہیں کہ قلم میں اتنی طاقت ہے کہ وہ سوچ اور امید کے ساتھ سمت کا بھی تعین کر دیتی ہے۔ ان کی سوچ کو فیس بک پر [email protected] سے مزید پرکھا جاسکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔